امام جنگیاں
میں صرف صوبہ بلوچستان کی بات کرونگا ، صوبے میں کوئی جامع معاشی منصوبہ بندی نہیں ہے ، صوبے میں بےروزگاری کی انتہا ہے ، صوبے کو وسائل سے محروم رکھا جارہا ہے ، امن و امان ایک سنگین شکل اختیار کرچکا ہے ، مکران کے لوگوں کا آبائی کاروبار پاک ایران سرحد بند ہے ، بلوچ سیاسی قیادت کو ہراساں کیا جارہا ہے ، بی این پی کے کوئٹہ جلسہ عام میں خود کش حملہ کیاگیا ، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور انکے ساتھیوں کو پیشی پر پیشی دیا جارہا ہے ، بلوچستان بھر میں ایک مخصوص ٹولہ کو صرف نوازا جارہا ہے ، 99 فیصد لوگ نظر انداز ہیں ، پنجاب کے ایک خاتون وزیر اعلیٰ ہمارے وزیر اعلیٰ سے آگے ہیں ، پنجاب میں جدید اصلاحات اور دیمروئ کے نت نئے پروگرام دئیے جارہے ہیں ، ہمارا وزیر اعلیٰ نے صرف رٹا لگایا ہے کہ فتنہ ہندوستان فتنہ ہندوستان سی ایم بلوچستان کو فتنہ پاکستان سرے سے نظر نہیں آرہا تو ہم کیا کریں ، وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اقتدار جب سے سنھبالا ہے ،صوبے کو کون سے بڑا اور اہم تاریخ ساز پروگرام دیا ہے ،تاکہ صوبے کے لوگ اپنے وزیر اعلیٰ کی کارکردگی پر فخر کرسکیں ، بلوچستان میں اپوزیشن کے بےشمار اعتراضات اور خدشات موجود ہیں ، صرف پی پی اور مسلم لیگی رہنماؤں اور ایم پی ایز کے کام ہورہے ہیں ، باقی جماعتوں کے لوگوں اور کارکنان شکایات کے انبار لگا دیتے ہیں ، آپ کسی سے مل کر بات کریں تب پتہ چلے گا اللہ تعالیٰ صوبے کے حالات پر کرم کرے اس وقت غریب لوگ انتہائی مشکل اور امیر لوگ انتہائی خوشحال ہیں ،سسٹم عجیب و غریب چل رہا ہے ، چند فیصد مخصوص لوگوں کی اجارہ داری ہے ، میر عبدالقدوس بزنجو حکومت میں بلند و بانگ دعوے نہیں کئے گئے لیکن بارڈر کھلا تھا لوگوں کے اکا دکا کام ہورہے تھے اب یہی بھی بند ہے ،سول سوسائٹی کے لوگ خاص سوسائٹی بن چکے ہیں ، بنیادی عوامی مسائل پر کوئی آواز نہیں اٹھاتا ہے ، کسی کو اپنی نوکری کی فکر ہے کسی کو اپنی مراعات اور ٹھیکوں کا غم ہے ، ایک مستقل خاموشی ہے ، غریب کےلیے آواز اٹھانا شاید ایک جرم کے زمرے میں آتا ہے

