وسیم عزیز
پاکستان بننے کے بعد بائیں بازو کی منظم سیاسی کردار سے خوفزدہ ہونے کی وجہ سے جبری پابندیوں اور ان کے خلاف طاقت کا استعمال ہوتا رہے ہے۔ اس کی بڑی وجہ شائد جاگیردارنہ سماج کے خلاف ان کی جدوجہد تھی۔ سب سے پہلے بائیں بازو کی سیاست پر پابندیاں لگائی اور ساتھ ذرائع ابلاغ یعنی کتابوں، رسالوں اور اخبارات پر پابندیاں لگائیں ۔جس کی وجہ سے پاکستان میں بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کو کئی دہائیوں سے مختلف قسم کے مسائل درپیش ہیں۔
بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے مسائل
1. عوامی رابطے کا فقدان
مزدوروں اور کسانوں کے نام پر سیاست کی جاتی ہے لیکن تنظیمی سطح پر یہ طبقے زیادہ فعال نہیں ہوتے۔
نچلی سطح پر یونین سازی کمزور ہو چکی ہے۔
2. نظریاتی ابہام اور تقسیم
بائیں بازو کئی چھوٹی جماعتوں میں بٹا ہوا ہے۔
عالمی سطح پر سوشلسٹ بلاک کے ٹوٹنے کے بعد نظریاتی کمزوری بڑھ گئی۔
3. مالی وسائل کی کمی
سرمایہ دارانہ نظام میں فنڈنگ زیادہ تر دائیں بازو یا اسٹیبلشمنٹ کے قریب جماعتوں کو ملتی ہے۔
بائیں بازو کے پاس انتخابات لڑنے کے لیے وسائل کم ہوتے ہیں۔
4. میڈیا میں نمائندگی نہ ہونا
نجی میڈیا زیادہ تر سرمایہ دار طبقے یا مذہبی سیاسی بیانیے کو جگہ دیتا ہے۔
بائیں بازو کی آواز عوام تک محدود رہ جاتی ہے۔
5. ریاستی دباؤ اور قدغنیں
یونین سازی پر پابندیاں، احتجاجی سرگرمیوں پر کریک ڈاؤن۔
اکثر بائیں بازو کو ’’ملک دشمن‘‘ یا ’’ایجنٹ‘‘ کے طعنے دیے جاتے ہیں۔
6. نوجوانوں کی شمولیت میں کمی
طلبہ تنظیموں پر پابندیاں اور طلبہ سیاست کا زوال۔
جدید مسائل (ماحولیات، ڈیجیٹل حقوق) پر بائیں بازو کی توجہ کم رہی۔
ممکنہ حل
1. عوامی تحریکوں سے براہ راست جڑنا
کسانوں، مزدوروں، خواتین اور طلبہ کی تحریکوں میں عملی شرکت بڑھائی جائے۔
گاؤں اور شہروں کی سطح پر کمیٹیاں منظم کی جائیں۔
2. اتحاد اور یکجہتی
چھوٹی بائیں بازو جماعتوں کو اتحاد کی بنیاد پر ایک بڑے پلیٹ فارم میں ضم ہونا چاہیے۔
مشترکہ منشور (land reforms، مزدور حقوق، تعلیم، صحت) پر اتفاق ہو۔
3. نئے بیانیے کی تشکیل
صرف سرمایہ داری کی مخالفت نہیں بلکہ متبادل نظام کی عملی شکل واضح کرنا ہوگی۔
ماحولیات، صنفی برابری، ڈیجیٹل حقوق جیسے نئے مسائل کو شامل کیا جائے۔
4. ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال
ٹی وی پر جگہ نہ ملنے کے باوجود سوشل میڈیا کے ذریعے براہ راست عوام تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
نوجوانوں کو آن لائن مہمات اور آگاہی پروگراموں میں شریک کیا جائے۔
5. طلبہ و مزدور سیاست کی بحالی
طلبہ یونین کی بحالی کے لیے مہم چلائی جائے۔
صنعتی علاقوں میں مزدور یونین سازی کو مضبوط بنایا جائے۔
6. مالی وسائل کے متبادل ذرائع
چندہ، اجتماعی تعاون اور کوآپریٹیوز کے ذریعے فنڈنگ کی جائے۔
بیرونی انحصار کم سے کم رکھا جائے تاکہ خودمختاری قائم رہے۔
بائیں بازو کی اصل طاقت ہمیشہ عوامی منظم جدوجہد رہی ہے۔ جب تک یہ جماعتیں گاؤں، کھیت، کارخانے، یونیورسٹی اور محلے کی سطح پر منظم نہیں ہوتیں، محض نعرے بازی سے ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

