آئینہ

قادربخش بلوچ
دنیا ہمیشہ اپنی بقا کی جنگ میں مصروف رہا ھے۔ہلاکو۔چنگیز خان۔ہٹلر مسولینی۔سکندر وغیرہ آے کئی راجا مہراجا زمین بوس ہوے۔لیکن دنیا نے ہار نہیں مانی چاند پر کمندیں ڈالنے کا کام بدستور جاری ھے۔ہنوز ایسے خطے کم ہیں جو جدید ٹیکنالوجی سے بے بہرہ ہیں۔مشرق وسطی میں جمہوریت کے علاوہ باقی تمام آسائشیں دستیاب ہیں۔روزگار۔بجلی جدید شاہراہیں اور دیگر اساہشات جن کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے مملکت خداداد میں بہت کم سیاست دانوں کو سیاست کا مفہوم شاہد معلوم ہو۔یہ واحد ملک ھے جہاں ہر ایرے غیرے سیاست کے پردہ سمیں پر اداکاری کر سکتا ھے یہاں سیاسی بازیگروں کو کسی سیاسی اصطبل میں تعلیم کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔۔کسی زمانے میں یہاں کوئی۔۔ھدا مرزی بی ایس او ہوا کرتا تھا جو وقت کے تھپیڑوں کے ساتھ روئی کی مانند اڑ گیا۔بلوچستان بنیادی ضروریات سے محروم ھے۔یہاں تک کہ بجلی ناپید ھے۔عوامی اسپتال۔جنہیں عوام سرکاری اسپتال کہتا ھے۔کوئی دوائی میسر نہیں ۔مسیحا وقت پر نہیں پہنچتے۔برقی نظام مفلوج ھے ۔پرسان حال نہیں شہر میں بجلی دستیاب نہیں۔۔ایک تلخ حقیقت یہ بھی ھے کہ عوام بجلی کا بل نہیں بھرتا۔عوام کو شعور دینا سیاسی جماعتوں کا کام ھے زمانے یہ شعور دینے کا کام۔بی ایس او۔کرتا تھا۔یہ بھی سچ ہے کہ عوام جب بل نہیں دے گا تو مسلہ ہوتا ھے سیاسی جماعتوں کے ورکروں کا فرض ھے کہ وہ عوام کو سمجھائیں ۔لیکن شاہد سمجھانے کا وقت گزر چکا ھے۔صرف ایک بات باقی بچا ھے کہ وزیر وغیرہ اپنے ترقیاتی فنڈز بجلی کے بل کے مد میں جمع کرا دیں۔دوسری اہم بات یہ کہ سیاسی جماعتوں کو اپنا ایک متفقہ لائحہ عمل طے کرنا چاہیے تاکہ عوام کو قدرے سکون ملے۔اے روز چوری ڈکیتی منشیات کی وبا۔سرحدی تجارت ایسے عوامی مسائل پر سیاست دانوں اکھٹا ہونا چاہیے۔مثلا دشت میں نیشنل پارٹی کو الائنس کے ساتھ مل جل کر کام کرنا چاہیے۔سیاست تو عوامی بھلائی کا نام ھے۔ویسے سیاست دان بہتر جانتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔اس وقت ملکی ایوانوں میں جان بلیدی ایک مثالی رہنما کا کردار ادا کر رہے ہیں جان بلیدی اپنے کچلے عوام کی غمزدہ آواز ہیں جو ہر محاز پر بڑی خوبصورتی سے پیش پیش ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں