انڈین فضائیہ کا ایک اور تیجس طیارہ حادثے کا شکار: اکنامک ٹائمز

انڈین ایئر فورس کا مقامی سطح پر تیار کردہ ایک اور اور لائٹ کمبیٹ ایئرکرافٹ (ایل سی اے) تیجس حادثے کا شکار ہو گیا۔

انڈین اخبار اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس حادثے کے بعد طیاروں کے اس بیڑے کی جامع جانچ شروع کر دی گئی ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔

اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق حادثہ رواں ماہ کے آغاز میں ایک اہم فضائی اڈے پر اس وقت پیش آیا جب لڑاکا طیارہ تربیتی پرواز مکمل کرنے کے بعد لینڈنگ کر رہا تھا۔

حادثے میں طیارے کو شدید نقصان پہنچا اور امکان ہے کہ اسے سروس سے خارج کر دیا جائے گا تاہم پائلٹ محفوظ رہا اور اسے کوئی سنگین چوٹ نہیں آئی۔

رپورٹ کے مطابق یہ طیارہ ان 32 سنگل سیٹ ایل سی اے طیاروں میں شامل تھا جو ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) نے فضائیہ کے حوالے کیے تھے۔

اس طیارے کے زیادہ جدید ایم کے ون اے (Mk1A) ورژن کی فراہمی پہلے ہی متعدد بار تاخیر کا شکار ہو چکی ہے حالانکہ فضائیہ اس ماڈل کے 180 طیاروں کا آرڈر دے چکی ہے۔ یہ تیجس بیڑے سے متعلق تیسرا بڑا حادثہ ہے۔

پہلا بڑا حادثہ مارچ 2024 میں پیش آیا تھا جب ایک ایل سی اے جیسلمیر کے قریب فائر پاور مظاہرے سے واپسی پر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس واقعے میں پائلٹ نے بروقت ایجیکٹ کر کے جان بچا لی تھی۔

دوسرا حادثہ نومبر 2025 میں دبئی ایئر شو کے دوران پیش آیا، جب ایک تیجس طیارہ فضائی کرتب کے مظاہرے کے دوران گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں پائلٹ ونگ کمانڈر نمنش سیال جان کی بازی ہار گئے جبکہ اس واقعے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

حالیہ حادثے کے بعد فضائیہ نے حفاظتی اقدامات کے تحت تیجس طیاروں کے بیڑے کی تفصیلی جانچ شروع کر دی ہے تاکہ حادثے کی وجوہات معلوم کی جا سکیں۔

دبئی ایئر شو میں انڈیا کا روایتی حریف پاکستان بھی شریک تھا جو مئی کی بڑی فضائی جھڑپ کے بعد پہلی آمنے سامنے آئے تھے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس طرح شو کے دوران طیارہ تباہ ہونے سے انڈیا کی ان کوششوں کو دھچکا لگے گا جن کے تحت وہ چار دہائیوں کی محنت کے بعد اس جہاز کو بیرون ملک متعارف کروانا چاہتا ہے۔

دبئی، جو پیرس اور برطانیہ کے فارنبرو کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا ایئر شو ہے، میں ایسا حادثہ انتہائی غیر معمولی تھا۔

امریکی تھنک ٹینک مِچل انسٹی ٹیوٹ فار ایروسپیس سٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈگلس اے برکی نے روئٹرز کو بتایا: ’یہ منظر بہت بھاری ہے۔ ایئر شوز وہ جگہ ہیں جہاں قومیں اپنی بڑی ٹیکنالوجیکل کامیابیاں دکھاتی ہیں، اور وہاں کریش بالکل الٹا پیغام دیتا ہے۔‘

ان کے مطابق منفی تشہیر کے باوجود امکان ہے کہ تیجس پروگرام طویل المدتی طور پر اپنا توازن دوبارہ حاصل کر لے گا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تیجس پروگرام 1980 کی دہائی میں پرانے سوویت میگ-21 کو تبدیل کرنے کے لیے شروع ہوا تھا لیکن اس کی ترقی طویل عرصے تک تکنیکی رکاوٹوں، مقامی انجن کی ناکامی اور انڈیا کے 1998 کے ایٹمی تجربات کے بعد پابندیوں کے باعث سست رہی۔

حالیہ برسوں میں انڈیا نے ہندستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کے ذریعے تیجس کے 180 طیاروں کے آرڈر دیے ہوئے ہیں مگر امریکی جی ای ایرو سپیس سے انجنوں کی فراہمی میں تاخیر کے سبب ان کی ترسیل شروع نہیں ہو سکی۔

ہندستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ کے سابق عہدیدار نے کہا کہ دبئی میں ہونے والے حادثے نے اس وقت تیجس طیارے کی بیرون ملک فروخت کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔

ان کے مطابق تیجس کو ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک کو بیچنے کا منصوبہ تھا اور اسی لیے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ نے 2023 میں ملائیشیا میں ایک دفتر بھی کھولا تھا۔

انڈین ایئر فورس پہلے ہی طیاروں کی شدید کمی کا سامنا کر رہی ہے جس کے سکواڈرن 42 کی مطلوبی تعداد سے کم ہو کر صرف 29 رہ گئے ہیں۔ میگ-29، جیگوار اور میراج 2000 جیسے پرانے فلیٹ آئندہ برسوں میں ریٹائر ہو جائیں گے اور تیجس ان کی جگہ لینے کے لیے بنایا جا رہا تھا لیکن سست پیداوار نے اس منصوبے کو متاثر کر دیا ہے۔

دو دفاعی حکام کے مطابق انڈیا فوری خلا پر کرنے کے لیے اضافی فرانسیسی رافیل خریدنے سمیت آف دی شیلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کے ایف-35 اور روس کے ایس یو-57 جیسے ففتھ جنریشن لڑاکا طیاروں کی خریداری بھی زیر غور ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں