فلسطینیوں اور بلوچوں کی جد وجہد میں مماثلت

اداریہ

فلسطینیوں اور بلوچوں کی جدوجہد عصرِ حاضر کے اُن اہم سیاسی و انسانی موضوعات میں شامل ہے جنہوں نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا ہے۔ اگرچہ دونوں خطوں کے تاریخی، جغرافیائی اور سیاسی حالات مختلف ہیں، مگر ان کی تحریکوں میں بعض نمایاں مماثلتیں بھی پائی جاتی ہیں جو انہیں ایک مشترکہ تناظر میں دیکھنے کا جواز فراہم کرتی ہیں۔
فلسطینی جدوجہد کی بنیاد 1948ء میں ریاستِ اسرائیل کے قیام کے بعد پڑی، جب بڑی تعداد میں فلسطینی بے گھر ہوئے۔ بعد ازاں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) اور دیگر تنظیموں نے قومی خودمختاری کے لیے سیاسی و مسلح مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ آج بھی غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال عالمی سیاست کا حساس موضوع بنی ہوئی ہے، اور مسئلہ فلسطین اقوامِ متحدہ سمیت مختلف عالمی فورمز پر زیرِ بحث رہتا ہے۔
دوسری جانب بلوچ قوم پرستی کی تحریک کا تعلق خطۂ بلوچستان سے ہے، جو جغرافیائی طور پر پاکستان، ایران اور افغانستان میں منقسم ہے۔ پاکستان میں بلوچ مزاحمت کی جڑیں 1948ء میں ریاستِ پاکستان کے ساتھ جبری الحاق کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی اختلافات میں تلاش کی جاتی ہیں۔ مختلف ادوار میں بلوچ قوم پرست جماعتوں اور مسلح تنظیموں نے سیاسی خودمختاری، وسائل پر اختیار اور انسانی حقوق کے تحفظ کے مطالبات اٹھائے ہیں۔
دونوں تحریکوں کے درمیان پہلی نمایاں مماثلت حقِ خودارادیت کا مطالبہ ہے۔ فلسطینی ہوں یا بلوچ، دونوں اپنی شناخت، ثقافت اور سیاسی اختیار کے تحفظ کو بنیادی حق قرار دیتے ہیں۔ دوسری مماثلت انسانی حقوق کی پامالیوں کے الزامات ہیں، جن میں جبری گمشدگیاں، فوجی کارروائیاں اور نقل مکانی جیسے مسائل شامل کیے جاتے ہیں۔ تیسری مماثلت یہ ہے کہ دونوں معاملات علاقائی اور بین الاقوامی سیاست کے پیچیدہ مفادات سے جڑے ہوئے ہیں، جس کے باعث ان کے حل میں بیرونی طاقتوں کا کردار بھی زیرِ بحث رہتا ہے۔
تاہم ان دونوں تحریکوں کے درمیان اہم فرق بھی موجود ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ ایک بین الاقوامی تنازع کی صورت اختیار کر چکا ہے جس میں متعدد ریاستیں براہِ راست فریق ہیں، جبکہ بلوچ مسئلہ زیادہ تر ایک داخلی سیاسی و آئینی معاملہ سمجھا جاتا ہے، اگرچہ اس کے علاقائی اثرات ضرور ہیں۔ مزید برآں، فلسطینی کاز کو عالمی سطح پر وسیع سفارتی شناخت حاصل ہے، جب کہ بلوچ تحریک کی بین الاقوامی نمائندگی نسبتاً محدود ہے۔
موجودہ صورت حال کا تقاضا ہے کہ جذباتیت کے بجائے سنجیدہ مکالمے کی ضرورت پر زور دیا جائے۔ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ دیرپا امن طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ سیاسی مفاہمت، آئینی ضمانتوں اور باہمی اعتماد سے حاصل ہوتا ہے۔ خواہ معاملہ فلسطین کا ہو یا بلوچستان کا، پائیدار حل کے لیے انسانی وقار، انصاف اور مکالمے کو بنیاد بنانا ناگزیر ہے۔ یہی راستہ خطے میں استحکام اور ترقی کی ضمانت بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں