اداریہ
یہ تحریر دراصل سوال نہیں، ہمارے اجتماعی ضمیر کے سامنے رکھا ہوا آئینہ ہے۔ اگر کسی ایک مسلک سے اختلاف کی بنیاد پر ہم اس کے ماننے والوں کو تاریخ، تہذیب، علم، ادب اور قومی خدمات سے خارج کرنے لگیں تو پھر ہمیں اپنی پوری شناخت مسمار کرنا پڑے گی۔
کیا ہم ابن سینا کی طب کو رد کر دیں؟
کیا الخوارزمی کے الجبرا کو جلا دیں؟
کیا جابر بن حیان کی کیمیا کو مٹا دیں؟
کیا البیرونی کی فلکیات پر خطِ تنسیخ پھیر دیں؟
اگر مسلک ہی معیار ہے تو پھر ہمیں تصوف میں معروف کرخی، فلسفے میں ملا صدرا، تبلیغ میں سید علی ہمدانی، شاعری میں عمر خیام اور حماسی روایت میں شاہنامہ کو بھی مشکوک قرار دینا ہوگا۔
ادب کی دنیا میں قدم رکھیں تو کیا ہم مرزا غالب، جوش ملیح آبادی، کیفی اعظمی یا جون ایلیا کے اشعار پر پابندی لگا دیں؟
کیا اردو کا شہرۂ آفاق ناول آگ کا دریا دریا برد کر دیا جائے؟
تاریخ اور سیاست میں جائیں تو کیا محمد علی جناح کی قومی حیثیت پر سوال اٹھا دیں؟
کیا ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی سیاسی جدوجہد کو کالعدم کر دیں؟
کیا 1965 کی جنگ میں خدمات انجام دینے والے محمد موسی کی قیادت کو مٹا دیں؟
کیا کارگل میں جان دینے والے لالک جان سے نشانِ حیدر واپس لے لیں؟
اور اگر ہم محبتوں کو بھی مسلک کی چھلنی سے گزاریں تو کیا نور جہاں کو تاریخ سے نکال دیں؟ کیا تاج محل کو ڈھا دیں کیونکہ وہاں ایک سنی بادشاہ کی شیعہ ملکہ آسودۂ خاک ہے؟
یہ سوالات طنز ہیں، مگر ان میں چھپا پیغام سنجیدہ ہے:
مسلکی تعصب اگر معیار ٹھہرے تو ہمیں اپنی پوری علمی و تہذیبی عمارت گرانا پڑے گی۔ ہم میں سے ہر شخص کسی نہ کسی استاد، مفکر، شاعر، سپاہی یا رہنما کا مقروض ہے — اور ان کی پہچان صرف ان کا مسلک نہیں، ان کی خدمت، کردار اور کارنامے ہیں۔
قومیں نفرت سے نہیں، تنوع کو قبول کرنے سے بنتی ہیں۔ پاکستان کی بنیاد کسی ایک مسلک پر نہیں، ایک مشترکہ سیاسی خواب پر رکھی گئی تھی۔ اگر ہم اس خواب کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونک دیں گے تو نقصان کسی ایک گروہ کا نہیں، پوری قوم کا ہوگا۔
اداریہ کا حاصل یہ ہے کہ تاریخ کو مسخ کرنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ اس میں ہمارا اپنا حصہ بھی شامل ہے۔ اگر ہم دوسروں کو مٹانے نکلیں گے تو آخر میں اپنی شناخت بھی سلامت نہیں رہے گی۔
مسئلہ کسی ایک فرقے کا نہیں — مسئلہ نفرت کے اُس بیانیے کا ہے جو علم، ادب، تاریخ اور قربانی سب کو مسلک کی عینک سے دیکھنا چاہتا ہے۔
اور جب عینک تعصب کی ہو تو نظر کبھی صاف نہیں آتی۔

