بنگلہ دیش کے انتخابات اور جنوبی ایشیا کا بدلتا منظرنامہ

اداریہ

بنگلہ دیش کے حالیہ عام انتخابات نے نہ صرف ملک کی داخلی سیاست کا رخ موڑا ہے بلکہ پورے خطے کی سفارتی و اسٹریٹجک بساط پر بھی نئی چالیں متعین کر دی ہیں۔ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی شیخ حسینہ کی سیاست کے بعد اب بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی کامیابی اور طارق رحمان کی قیادت ایک نئی سمت کا اشارہ دے رہی ہے۔ یہ تبدیلی محض حکومتوں کا تبادلہ نہیں، بلکہ پالیسی ترجیحات اور علاقائی تعلقات کی تشکیلِ نو کا امکان بھی رکھتی ہے۔
سب سے پہلا اثر داخلی استحکام پر پڑے گا۔ اگر نئی حکومت سیاسی مفاہمت، انتخابی شفافیت اور ادارہ جاتی مضبوطی کو یقینی بناتی ہے تو یہ بنگلہ دیش میں جمہوری تسلسل کو تقویت دے سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر سیاسی کشیدگی معاشی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے، جس کا براہِ راست اثر خطے کی معیشت پر بھی پڑے گا۔
علاقائی تناظر میں سب سے زیادہ توجہ بھارت کے ساتھ تعلقات پر مرکوز ہے۔ سرحدی سلامتی، پانی کی تقسیم، تجارت اور انسدادِ دہشت گردی جیسے معاملات دونوں ممالک کے لیے نہایت اہم ہیں۔ نئی دہلی یہ دیکھنا چاہے گا کہ ڈھاکا کی نئی قیادت ماضی کے تعاون کو جاری رکھتی ہے یا خارجہ پالیسی میں توازن کی نئی حکمتِ عملی اپناتی ہے۔
اسی طرح پاکستان اور چین کے ساتھ تعلقات بھی اہمیت اختیار کر جائیں گے۔ چین کی معاشی سرمایہ کاری اور خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے پیشِ نظر بنگلہ دیش کی پالیسی جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی صورت میں سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ ممکن ہے، جو علاقائی سیاست میں نئی صف بندیاں پیدا کر سکتا ہے۔
جنوبی ایشیا پہلے ہی معاشی دباؤ، موسمیاتی تبدیلی اور سیکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے میں بنگلہ دیش جیسے اہم ملک کی سیاسی سمت پورے خطے کے استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر نئی حکومت معاشی اصلاحات، برآمدات میں اضافہ اور علاقائی تجارت کے فروغ پر توجہ دیتی ہے تو یہ نہ صرف ملکی ترقی بلکہ علاقائی خوشحالی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
یہ وقت محض سیاسی جشن یا مایوسی کا نہیں، بلکہ دانشمندانہ حکمتِ عملی کا ہے۔ بنگلہ دیش کے عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے؛ اب ذمہ داری قیادت پر ہے کہ وہ داخلی ہم آہنگی کو فروغ دے اور خارجہ محاذ پر توازن و تدبر کا مظاہرہ کرے۔ آنے والے مہینے اس امر کا تعین کریں گے کہ آیا یہ تبدیلی جنوبی ایشیا میں استحکام کا پیش خیمہ بنتی ہے یا ایک نئی سیاسی کشمکش کا آغاز۔

اپنا تبصرہ بھیجیں