بلوچستان کی موجودہ صورتِ حال: مسائل، امکانات اور آگے کا راستہ

اداریہ

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا مگر آبادی کے اعتبار سے سب سے کم گنجان صوبہ ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود یہ خطہ طویل عرصے سے پسماندگی، بدامنی اور احساسِ محرومی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ بلوچستان کو محض سیکورٹی کے زاویے سے نہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور سماجی تناظر میں بھی دیکھا جائے۔
گزشتہ چند برسوں میں بدامنی کے واقعات، مسلح جھڑپیں اور ریاست مخالف کارروائیاں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنی ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں اپنی جگہ، لیکن دیرپا امن کے لیے سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی ناگزیر ہے۔ اگر نوجوانوں کو روزگار، تعلیم اور باعزت مواقع میسر نہ ہوں تو شدت پسندی کے بیانیے کو جگہ ملتی ہے۔ اس پس منظر میں ریاستی پالیسیوں کو صرف طاقت کے استعمال تک محدود رکھنا مسئلے کا مکمل حل نہیں ہو سکتا۔
معاشی اعتبار سے گوادر بندرگاہ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری جیسے منصوبے بلوچستان کی قسمت بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم مقامی آبادی کا یہ شکوہ بجا ہے کہ انہیں ان منصوبوں میں خاطر خواہ حصہ نہیں دیا جا رہا۔ ترقیاتی اسکیموں میں شفافیت، مقامی افراد کی بھرتی، اور بنیادی سہولیات—پینے کا صاف پانی، صحت اور تعلیم—کی فراہمی کو ترجیح دی جائے تو احساسِ شمولیت پیدا ہو سکتا ہے۔
سیاسی قیادت کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ قبائلی ڈھانچے، کمزور بلدیاتی نظام اور محدود سیاسی عمل نے عام آدمی کو فیصلہ سازی سے دور رکھا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبے میں حقیقی معنوں میں بااختیار مقامی حکومتیں قائم ہوں، وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو اور آئینی حقوق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ مکالمہ اور مفاہمت کا دروازہ ہر وقت کھلا رہنا چاہیے تاکہ ناراض عناصر کو قومی دھارے میں لایا جا سکے۔
میڈیا اور سول سوسائٹی کا کردار بھی اہم ہے۔ بلوچستان کو اکثر صرف بدامنی کی خبروں تک محدود کر دیا جاتا ہے، جبکہ یہاں کے عوام کی ثقافتی تنوع، صلاحیتوں اور مثبت سرگرمیوں کو اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔ قومی بیانیے میں بلوچستان کو مرکزی مقام دینا ہی یکجہتی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں