کوئٹہ(این این آئی)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ غیر متوازن ترقی صرف بلوچستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے تاہم غیر متوازن ترقی کے نام پر بندوق اٹھا کر تشدد کسی بھی طرح قابل قبول نہیں تشدد کے ذریعے ریاست کو توڑنے کی مذموم کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی اس لاحاصل جنگ سے بلوچوں کو کچھ حاصل نہیں ہوگا ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی، امور حکومت میں نظم و نسق کی مضبوطی، عوامی اعتماد کی بحالی اور مؤثر گورننس کا انحصار باصلاحیت، باکردار اور بااصول افسران پر ہوتا ہے عوامی خدمت کو محض سرکاری فریضہ نہیں بلکہ قومی امانت سمجھ کر ادا کرنا ہوگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو بلوچستان سول سروسز اکیڈمی میں اسسٹنٹ کمشنرز اور سیکشن آفیسرز کے پہلے پری سروس ٹریننگ کورس کے اختتام پر افسران میں سرٹیفکیٹس کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزراء، اراکین صوبائی اسمبلی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ڈائریکٹر جنرل بلوچستان سول سروسز اکیڈمی عبدالحفیظ جمالی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ آج سے آپ سب کی اصل آزمائش عملی میدان میں شروع ہو رہی ہے آپ کی پیشہ ورانہ زندگی کا یہ مرحلہ خدمت، دیانت اور قیادت کے امتحان کا آغاز ہے انہوں نے کہا کہ دیانت داری کامیابی کی کنجی ہے جبکہ کرپشن ایک بڑا چیلنج ہے جتنی دوری آپ کرپشن سے اختیار کریں گے اتنی ہی عزت اور ترقی آپ کا مقدر بنے گی آپ کے نصیب میں جو رزق لکھا ہے وہ آپ کو مل کر رہے گا لہٰذا غیر قانونی ذرائع اختیار کرنے کا کوئی جواز نہیں انہوں نے واضح کیا کہ پالیسی سازی کا اختیار آئینِ پاکستان نے منتخب قیادت کو دیا ہے اس لیے حکومت کی ذمہ داری پالیسی تشکیل دینا ہے جبکہ افسران کا کام بغیر کسی “اگر مگر” کے ان پالیسیوں اور احکامات پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانا ہے انہوں نے کہا کہ ہم پالیسی کی تشکیل جبکہ افسران عمل درآمد کے زمہ دار ہیں اس درمیانی خلیج کو ختم کرکے ملک و قوم کی خدمت افسران کا نصب العین ہونا چاہئے وزیر اعلیٰ نے افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ صوبے کے دور دراز علاقوں سے خالص میرٹ پر منتخب ہو کر یہاں تک پہنچے ہیں جو اس امر کا ثبوت ہے کہ میرٹوکریسی ہی نظام کی مضبوطی کی بنیاد ہے اسی جذبے کے ساتھ عوامی خدمت کو اپنا شعار بنائیں اور بلوچستان کے اس عام آدمی کو ریلیف فراہم کریں جو مختلف مشکلات اور مصائب کا سامنا کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ غیر متوازن ترقی صرف بلوچستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے تاہم غیر متوازن ترقی کے نام پر بندوق اٹھا کر تشدد کسی بھی طرح قابل قبول نہیں تشدد کے ذریعے ریاست کو توڑنے کی مذموم کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی اس لاحاصل جنگ سے بلوچوں کو کچھ حاصل نہیں ہوگا ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی انہوں نے زور دیا کہ مٹھی بھر دہشتگرد ریاست کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں مگر ریاست تا قیامت قائم رہے گی اور ایسے عناصر اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے وزیر اعلیٰ نے اسے تشویشناک قرار دیا کہ بیوٹمز یونیورسٹی کا ایک پروفیسر دہشتگردی میں ملوث پایا گیا جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست مخالف بیانیہ منظم انداز میں پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ نہ صرف خود ریاست مخالف پراپیگنڈے سے دور رہیں بلکہ عوام میں شعوری آگاہی بھی پیدا کریں پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 5 ریاست کے ساتھ مکمل اور غیر مشروط وفاداری کا تقاضا کرتا ہے اور ہر سرکاری افسر پر لازم ہے کہ وہ اس آئینی ذمہ داری کو مقدم رکھے انہوں نے کہا کہ نظم و نسق کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں تاریخ میں پہلی بار بلوچستان سول سروسز اکیڈمی میں زیر تربیت ایک افسر کے خلاف ضابطہ جاتی کارروائی عمل میں لائی گئی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نظم و ضبط پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ہر انسان نے ایک دن دنیا سے رخصت ہونا ہے اس لیے ایسی عملی زندگی گزاریں کہ آپ کو اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے اصل کامیابی عہدے میں نہیں بلکہ کردار اور خدمت میں پوشیدہ ہے تقریب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بلوچستان سول سروسز اکیڈمی کے ڈیلی ویجز ملازمین کو کنٹریکچول بنیادوں پر تعینات کرنے اور اکیڈمی کی لائبریری کو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کرنے کے احکامات جاری کئے۔

