اداریہ
گوادر فشریز میں تعیناتی کے عمل میں غیر معمولی تاخیر نے کامیاب امیدواروں کو شدید ذہنی اذیت اور بے یقینی سے دوچار کر دیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس سے قبل دو مرتبہ ٹیسٹ اور انٹرویوز کا مرحلہ مکمل کیا جا چکا ہے، مگر اس کے باوجود تقرری کے احکامات جاری نہیں کیے گئے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف انتظامی کمزوری کی عکاس ہے بلکہ نوجوانوں کے اعتماد کو بھی مجروح کر رہی ہے۔
گوادر جیسے اہم ساحلی علاقے میں فشریز کا شعبہ محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ مقامی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں شفاف اور بروقت بھرتیاں نہ صرف ادارے کی کارکردگی بہتر بنا سکتی ہیں بلکہ بے روزگار نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں۔ لیکن جب بھرتی کا عمل بار بار دہرایا جائے اور اس کے باوجود تقرری کے احکامات التوا کا شکار رہیں تو یہ عمل سوالات کو جنم دیتا ہے۔
امیدواروں نے تحریری امتحانات اور انٹرویوز کے مراحل صبر و تحمل سے مکمل کیے۔ ان میں سے اکثر نے دور دراز علاقوں سے آ کر شرکت کی، مالی وسائل خرچ کیے اور مستقبل کی منصوبہ بندی اسی امید پر کی کہ میرٹ کی بنیاد پر انہیں جلد تعیناتی ملے گی۔ مگر مسلسل تاخیر نے ان کے حوصلے پست کر دیے ہیں اور بے چینی میں اضافہ کر دیا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتِ بلوچستان فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لے۔ اگر تمام تقاضے پورے ہو چکے ہیں اور میرٹ لسٹ مرتب ہو چکی ہے تو مزید تاخیر کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ شفافیت اور گڈ گورننس کا تقاضا ہے کہ کامیاب امیدواروں کو فوری طور پر تقرری کے احکامات جاری کیے جائیں تاکہ ادارہ بھی فعال ہو اور نوجوانوں کی بے چینی کا خاتمہ بھی ممکن ہو۔
صوبائی حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ نوجوانوں کا اعتماد کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔ اگر یہی طبقہ بددل ہو جائے تو اس کے اثرات دیرپا اور منفی ہوتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ذمہ داران سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور عملی اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کریں کہ میرٹ اور انصاف محض نعرے نہیں بلکہ عملی حقیقت ہیں۔

