نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے پاکستانی معیشت کی صورتحال پر ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی کے ساتھ خصوصی نشست کا انعقاد

کوئٹہ (رپورٹر) معیشت کے ساتھ 40 سال سے کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ سٹے کی معیشت کا یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ رئیل اسٹیٹ اور اسٹاک ایکسچینج صرف منافع کا شارٹ کٹ ہیں ان سے افراد امیر ہوتے ہیں ریاست کمزور رہتی ہے۔ نجکاری کے نام پر ملک میں صنعتی اداروں کی بندربانٹ کی گئی۔

نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے موجودہ ملکی معاشی صورت حال پر نیشنل پارٹی صوبائی دفتر امبر میڈیکل سینٹر صدر کراچی مکالمہ رکھا گیا جس میں ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی نے پاکستان کی ماضی، حال اور مستقبل کی معاشی صورتحال پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور شرکاء کے سوالات کے جواب بھی دیے۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ GST پانچ فیصد اور حکومت کے اخراجات بشمول دفاعی اخراجات 50 فیصد کم کیے جانے اور تمام سامان تعیشات کی درآمد پر پابندی لگانے تک معیشت مستحکم نہیں ہوسکتی۔ اس پروگرام کے مہمان خاص نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر محمدشہی تھے۔
ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ گزشتہ 40 سال سے مسلسل ہم اپنی صنعتوں کو بند اور مختلف مفادات کے تحت غیرملکیوں کے سامان کو درآمد کر رہے ہیں۔ حکومت نے عالمی بینکنگ نظام کے دباو میں ایسی قانون سازی کی جس سے ملک میں سے کثیر سرمایہ ہر سال باہر منتقل ہوجاتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے گورنرز، وزیر خزانہ اور حتی کہ وزیراعظم تک جب درآمد کیے جائیں گے تو ملک کی ترقی کیسے ہوگی۔ ہماری معیشت مسلسل بیٹھی ہوئی ہے اسکے کھڑے ہونے کا واحد راستہ صنعتوں کا قیام، درآمد پر پابندی، GST میں کمی، ڈیفینس اخراجات اور حکومت کے اخراجات میں کمی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ معاشی بحران کی دو بڑی وجوہات ہیں ایک بجٹ خسارہ ہے جو کئی سال سے پورا نہیں ہوا اور اب ہم اس حد تک آگئے ہیں کہ قرض کی ادائیگی کے لیے قرض لیتے ہیں اور اب ہم اپنے اثاثے فروخت کررہے ہیں۔ جبکہ دوسری وجہ حکومتی اخراجات ہیں حکومت کے ماتحت درجنوں ادارے ایسے ہیں جو کوئی کام نہیں کرتے لیکن ہر سال حکومت اربوں کے اخراجات کرتی ہے۔ سامان تعیشات کی امپورٹ بھی ہمارے خسارے میں اضافے کا باعث ہے۔ ہم دالیں، پام آئل تک امپورٹ کرتے ہیں۔ ڈالر کا ریٹ بڑھنے سے ضروریات زندگی کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد 18 وزارتیں وفاق میں ختم ہونی تھیں اگر وہ ختم ہوتیں تو اسکے ساتھ 60 ڈپارٹمنٹس بھی ختم ہوتے لیکن ایسا نہیں ہوا اور یہ سب خزانے پر آج بھی بوجھ ہے۔
سیاسی پارٹیوں کا فریضہ ہے کہ وہ حکومتی اخراجات، دفاعی اخراجات، GST میں کمی، سامان تعیشات کی درآمد پر پابندی، صنعتوں کے قیام، ریلوے کی بحالی اور ایکسپورٹ میں اضافہ جیسے اقدامات پر زور دیں۔ اور اگر ایسا نہیں ہوا تو کوئی بھی حادثہ، کسی عالمی ادارے کی طرف سے قرض کی فراہمی میں رکاوٹ ہماری معیشت کو دھڑام سےگرا دے گا۔
نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر محمدشہی نے اختتامی کلمات میں ڈاکٹر قیصر بنگالی صاحب کا شکریہ ادا کیا اور انہوں نے کہا کہ ایک نہایت چھوٹی سی اشرافیہ نے پورے ملکی نظام بشمول معیشت کو اپنے مفادات کا یرغمال بنایا ہوا ہے جس کے باعث عدم مساوات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ غربت پورے ملک کا مسئلہ ہے مگر بلوچستان میں صورتحال نہایت خراب ہے جہاں 73 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے گزار رہے ہیں مگر کوئی ادارہ سنجیدگی کے ساتھ کام کرنے پر تیار نہیں۔ بلوچستان میں صنعتیں نہیں جبکہ زراعت، ماہیگیری، کان کنی اور سرحدی تجارت سمیت دیگر شعبہ جات بحرانوں کی زد میں ہیں۔ میں خود سینیٹ کے رکن کی حیثیت سے کوشش کر چکا کہ بلوچستان میں بارڈر ٹریڈ کو قانونی بنالیا جائے جس سے عوام کو روزگار اور حکومت کو ٹیکس ملے لیکن ایسا نہیں ہوسکا کچھ ادارے مسلسل رکاوٹ ہیں۔ معدنیات کو ایسی پالیسیوں کے تحت فروخت کیا جارہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو اسکا کوئی فائدہ نہیں ہورہا۔ سیاسی طور پر بلوچستان کی سیاسی قیادت کو نظام سے باہر دھکیلا جارہا ہے اور کٹھ پتلیوں کو حکومت میں لایا جا رہا ہے جسکی وجہ سے کرپشن بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ میر کبیر نے کہا کہ نیشنل پارٹی ڈاکٹر قیصر بنگالی صاحب کی معروضات کو سنجیدگی سے لیتی ہے اور پارٹی ہر سطح پر ان مطالبات کو اٹھانے کی پالیسی اپنائے گی۔
پروگرام کی نظامت، پروگرام کے آرگنائزر نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری مجید ساجدی صاحب نے کی۔ دیگر شرکاء میں کیچ بلوچستان کے میر حمل خان بلوچ، میر بجار، انجنیئر حمید بلوچ، طاہرہ بلوچ، مرکزی نائب صدر برائے سندھ محترمہ شاہینہ رمضان، مرکزی کمیٹی کے ممبر رمضان میمن، جہد حق کے چیف ایڈیٹر ایوب قریشی، سندھ کے نائب صدر طالب جھکرو، کے الیکٹرک سی بی اے یونین کے چیئرمین سہیل بابر، سندھ کی خاتون سیکرٹری یاسمین نگار، فنانس سیکرٹری حکیم خان، شمس صاحب، سائیں اسلم بلوچ، غلام نبی بہرانی اور غلام رسول سمیت کثیر تعداد میں ساتھی شریک ہوئے۔

جاری کردہ:
مرزا مقصود (انفارمیشن سیکرٹری، نیشنل پارٹی سندھ)

اپنا تبصرہ بھیجیں