گل پلازہ جوڈیشل کمیشن کی سماعت، ایس بی سی اے، پولیس سرجن، مارکیٹ ایسوسی ایشن سے جواب طلب

گل پلازہ جوڈیشل کمیشن نے سی ای او واٹر کارپوریشن، ڈی جی ایس بی سی اے، میڈیکل لیگل آفیسر اور مارکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا سمیت دیگر کو سوالنامے دیتے ہوئے جوابات اور اہم ریکارڈ طلب کرلیے۔

سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن اجلاس شروع ہوا تو صدر گل پلازہ ایسوسی ایشن تنویر پاستا کمیشن اجلاس میں غیر حاضر تھے۔

جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر کہاں ہیں؟ باہر آواز لگوائیں تنویر پاستا کے لئے، انکے نوٹس نکلوائیں۔

کمیشن نے سینیئر ڈائریکٹر لینڈ کے ایم سی سید عدنان حیدر زیدی کو روسٹرم پر بلایا اور پلاٹ کی قانونی حیثیت سمیت لیز سے متعلق سوالات کیے۔

جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ گل پلازہ کے اطراف روڈ نیٹ ورک آپ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے؟ عدنان حیدر نے کہا کہ ہم صرف پلاٹ کی لیز دیتے ہیں۔ جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ روڈ پر تجاوزات بھی آپ کا معاملہ نہیں؟ گل پلازہ کا ٹائٹل کیا ہے؟۔

سینئر ڈائریکٹر لینڈ نے کہا کہ 1884 میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو میونسلپٹی نے 99 سالہ لیز پر دی تھی۔ جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ ان کو زمین کیسے دی؟ کیا کسی قانون کے تحت زمین ملی تھی؟رجسٹر میں انٹری سے کیا ملکیت ہوجاتی ہے۔ زمین گرانٹ کی گئی تھی، کس نے لیز ایشو کی تھی؟ ہماری رائے میں لیز سرکاری ادارہ یا قانون دیتا ہے۔ کوئی انفرادی شخص یا ممبر لیز نہیں دے سکتا۔

سینیئر ڈائریکٹر لینڈ کے ایم سی سید عدنان حیدر زیدی کمیشن کو مطمئن نہ کرسکے۔ کمیشن کے سربراہ نے پوچھا آپ کس کو رپورٹ کرتے ہیں؟ عدنان حیدر نے کہا کہ میونسپل کمشنر کو رپورٹ کرتے ہیں۔

کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ نوٹس نکالئے سینیر ڈائریکٹر لینڈ کے ایم سی معاونت نہیں کرسکتے۔ میونسپل کمشنر کو آئندہ اجلاس میں طلب کیا جائے۔

گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا کمیشن اجلاس میں پہنچے جس پر انہیں کمیشن نے روسٹر پر طلب کرلیا۔ کمیشن نے پوچھا کہ گل پلازہ بند ہونے کا وقت کیا ہے؟۔

تنویر پاستا نے بتایا کہ مارکیٹ عام دنوں میں ساڑھے 10 سے پونے 11 جبکہ ہفتے کو ساڑھے 10 سے 11 بجے بند ہوتی تھی۔

کمیشن نے سوال کیا کہ آفیشل وقت کیا ہے؟ تنویر پاستہ نے کہا کہ ہمیں کسی نے مقررہ وقت پر بند کرنے کا پابند نہیں کیا تھا۔

کمیشن نے پوچھا کہ دروازے کیا ایک ایک کرکے بند کرتے تھے؟ صدر نے بتایا کہ گیٹ نمبر ون سے ساڑھے 10 بجے دروازے بند کرنا شروع کرتے تھے اور 20 سے 25 منٹ میں دروازے بند کرنے کا عمل مکمل ہوتا تھا۔

انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ ہفتے کو 10 پینتالیس پر دروازے بند کرنا شروع کرتے ہیں۔، ریمپ ساڑھے 11 بجے بند ہوتا ہے۔

کمیشن پوچھا کہ سی سی ٹی وی ریکارڈ موجود ہے؟ اس پر تنویر پاستا نے کہا کہ عمارت گرنے اور ملبے سے کچھ ڈی وی آر ملے تھے، دو جگہ ڈی وی آر ریکارڈ ہوتے تھے،بیسمنٹ میں سیکیورٹی روم سے ڈی وی آر لگے تھے، دو ماہ پہلے سی سی ٹی وی سسٹم اپگریڈ کیا گیا تھا جس کے بعد 280 سی سی ٹی وی کیمرے لگے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ مرکزی راہداری چھ سے آٹھ فٹ کی تھی، میزا نائن ہر دس فٹ کی راہداری ہیں۔ کمیشن نے پوچھا کہ اپروو پلان کے مطابق کتنی دکانیں ہیں؟ تنویر پاستا نے بتایا کہ میں نے عمارت نہیں بنائی، حادثے کے وقت 1153 تمام دکانیں لیز تھیں۔ 2003 میں بیسمنٹ سے پارکنگ ختم کرنے چھت پر پارکنگ بنائی گئی۔

ایس بی سی اے حکام نے کہا کہ مزید منزل نہیں بنا سکتے اسی کو توسیع کیا جاسکتا ہے۔ سب لیز کا ریکارڈ ہمارے پاس نہیں ہے۔

مارکیٹ صدر نے بتایا کہ ہر دکان سے 15 سو روپے مینٹیننس وصول کی جاتی ہے۔ ہم نے دکان مالکان کو کہا تھا کہ کرائے معاہدے ہمارے ذریعے کیا جائے۔ کمیشن نے پوچھا کہ منیجمنٹ کا کیا کردار تھا پھر؟ صدر نے جواب میں کہا کہ ہم مینٹیننس وصولی اور کام کرنا، صفائی، سی سی ٹی وی اور چوکیدار منیج کرتے تھے۔

کمیشن نے سوال کیا کہ کتنے چوکیدار ہیں؟ صدر نے کہا کہ جب آگ لگی تب 6 چوکیدار تھے۔ 2005 میں آخری لیز بیسمبٹ کی ہوئی تھی۔ آگ بجھانے والے سو سلینڈر اور 65 بال تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایک ماہ پہلے ہی سلینڈر دوبارہ بھروائے گئے تھے۔ تمام ریکارڈ دفتر میں ہوتا تھا جو جل چکا ہے۔ کمیشن نے پوچھا کہ کیا آپ کی تنظیم رجسٹرڈ ہے؟ تنویر پاستا نے کہا کہ رجسٹرڈ تنظیم نہیں ہے۔

کمیشن نے سوال کیا کہ اگر آپ درمیان میں ہیں تو باہر نکلنے میں کتنا وقت لگے گا؟ صدر نے جواب دیا کہ باہر نکلنے اور دیگر منزلوں ہر جانے کے متعدد راستے تھے۔

کمیشن نے پوچھا کہ منیجمنٹ کے کتنے لوگ اندر تھے؟ صدر نے بتایا کہ 40 رضا کار تھے جن میں سے 5 شہید ہوئے۔

کمیشن نے سوال کیا کہ آپ کب سے صدر ہیں؟ تنویر پاستا نے کہا کہ 2024 میں صدر ہوں۔ کمیشن نے پوچھا پہلے بھی آپ کہیں کمیٹی میں رہے ہیں؟ صدر نے کہا کہ آر جے مال میں بلڈر کے ساتھ تھا، کمیٹی میں نہیں تھا۔

تنویر پاستا نے کہا کہ آگ لگنے کے بعد 95 فیصد لوگ نکل گئے تھے۔ کمیشن نے سوال کیا کہ آپ نے تمام سیل ڈیڈ کراچی چیمبر کو فراہم کیے ہیں؟ کیا آپ وہ ہمیں فراہم کرسکتے ہیں؟ ہمیں ٹائٹل دیکھنے ہیں۔

تنویر پاستا نے کہا کہ دوبارہ عمارت بنتی ہے تو انکو وہی دکانیں دوبارہ ملیں گی۔ کمیشن نے سوال کیا کہ کون بنا کر دے رہا ہے؟ صدر نے کہا کہ حکومت نے اعلان کیا ہے دوبارہ بنانے کا۔

جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ یہ نجی پراپرٹی ہے لیکن سرکار آپ کو دوبارہ بنا کردے گی؟ آپ سوالنامہ جمع کروائیں۔

کمیشن نے گل پلازہ مینجمنٹ اور تنویر پاستا سے 72 سوالات کے جوابات مانگ لیے۔

ایسوسی ایشن سے 72 سوالات کے جوابات طلب

سب سے پہلے آگ کہاں لگی؟ کس نے آگ کی نشاندہی کی؟ کیا فوری اقدامات کیے؟ کیا آگ بھجانے والے آلات استعمال کیے گیے کیا آلات فعال تھے؟ مارکیٹ کھولنے اور بند ہونے کے اوقات کار کتنے ہیں منظور شدہ؟

سوال پوچھا گیا ہے کہ حادثے کے وقت کتنے لوگ تھے اندر؟ اور وہ کیوں اندر تھے؟ کیا لوگوں کو باہر نکلنے کے لیے کوئی اعلانات کیے گئے تھے؟ کیا سانحہ کے وقت دروازے فوری کھولے گیے تھے؟ ہر فلور پر کتنے راستے ہیں باہر آنے؟ اور کتنے استعمال میں نہیں ہیں؟کیا دروازے بند یا لاک تھے سانحہ کے وقت؟

کمیشن نے سوال پوچھا ہے کہ کون دروازے کھولتا اور بند کرتا ہے؟ کیا سیکورٹی اسٹاف لوگوں کو باہر نکالنے کے لیے موجود تھا؟ کیا اسٹاف کو آگ بجھانے کی کوئی تربیت فراہم کی گئیں تھا؟ آفیشل ریکارڈ کے مطابق گل پلازہ میں کتنی دوکانیں ہیں؟ اور سانحہ کے وقت کتنی کھلی تھیں؟ کیا گل پلازہ مینجمنٹ کو اندر پھنسے لوگوں کے کالز موصول ہوئی تھیں؟

کمیشن نے گل پلازہ مینجمنٹ سے متعلق تمام دستاویزات اور معلومات طلب کرلیں۔

سی ای او واٹرکارپویشن کا کمیشن کو بیان

سی ای او واٹر کارپوریشن احمد علی صدیقی نے کمیشن کے روبرو بیان میں کہا کہ ہمیں واٹس ایپ پر سینیئر فائر افسر کا پیغام موصول ہوا۔ ایس او پی بھی یہی ہے۔ تمام ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کا قریبی ہائیڈرنٹ 14 کلومیٹر دور ہے، ہماری پہلی گاڑی 10 بجکر 56 منٹ پر پہنچی اور پانی کی سپلائی بغیرکسی رکاوٹ کے جاری رہی۔ ہیڈ کوارٹر، صدر، لیاری، ناظم آباد ہائیڈرینٹ موجود ہیں۔

کمیشن نے پوچھا کہ پہلے تین گھنٹے کیلئے کتنا پانی سپلائی کا کیا گیا۔ جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیئے کہ فائر اسٹیشنز کو پاس واٹر کارپوریشن کی لائن ہونی چاہیے۔

احمد علی صدیقی نے کہا کہ 15 فائر ہائیڈرنٹس موجود ہیں جہاں سے فائر ٹینڈرز کو روزانہ چھ گھنٹے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ فائر بریگیڈ ہیڈ کوارٹر میں ایک ملین گیلن یومیہ کا ٹینک موجود ہے۔

کمیشن کے سربراہ نے پوچھا کہ گل پلازہ میں پہلے دو گھنٹوں میں کتنا پانی استعمال ہوا ہوگا؟ احمد علی صدیقی نے کہا کہ 20 ہزار گیلن پانی ایک گھنٹے میں استعمال ہوتا ہے تو 40 ہزار گیلن استعمال ہوا ہوگا۔

جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ اگلے بارہ گھنٹوں میں آپ کی ضرورت تو نہیں ہی پیش آئی ہوگی۔ 24 گھنٹوں میں بھی فائر بریگیڈ کے پاس پانی کی کمی نہیں ہونی چاہیے تھی۔؟

واٹر کارپویشن سے پوچھے گئے سوالات

انکوائری کمیشن نے سی ای او واٹر کارپوریشن سے 12 سوالات کے جوابات اور 7 اہم دستاویزات طلب کرلیں۔

سوالات میں پوچھا گیا ہے کہ گل پلازہ کہ ارد گرد فائر ہائیڈرنٹس سپلائی اور کتنے گل پلازہ کے قریب مینٹین ہیں؟ کیا ہائیڈرنٹس فعال تھے اور سانحہ کے وقت پانی کا پریشر کتنا تھا؟ کیا فائر فائٹنگ کے وقت پانی سپلائی جاری تھی؟ کیا پانی کو پریشر کم ہوا؟ کیا کہیں پانی کی فراہمی بند ؟ پانی کا پریشر کم ہونے سے آپریشن متاثرہ ہوا؟ کیا واٹر بورڈ ہائیڈرنٹس کی انسپیکشن کرتا ہے؟ کیا ہائیڈرنٹس کا ریکارڈ مینٹین کیا جاتا ہے؟ کیا سانحہ کے وقت پانی کی کمی کی کوئی شکایت ملی تھی؟ کیا فائر فائٹنگ کے وقت پانی کا پریشر برقرار رہا؟ کیا سانحہ کے وقت ایمرجنسی نافذ کرنے کی درخواست موصول ہوئی؟ کیا پانی کی فراہمی واٹر بورڈ کی زمہ داری تھی کہ پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے؟ گل پلازہ کے قریب ہائیڈرنٹ کا نقشہ پیش کیا جائے؟ ہائیڈرنٹ فعال اور پریشر ریکارڈ فراہم کیا جائے، کتنا پانی فراہم کیا گیا سانحہ کے وقت؟ پانی کی عدم فراہمی علم لائی گئی تھی؟ ہائیڈرنٹ کیسے چلائے جارہے ہیں ایس او پیز پیش کی جائیں۔

پولیس سرجن

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ نے کمیشن کو بتایا کہ ابتدائی طور پر 8 زخمی اسپتال لائے گئے۔ جنہیں برنس سینٹر میں علاج کے بعد ڈسچارج کردیا گیا۔ پھر اتوار کی صبح 6 قابل شناخت باڈیز لائی گئیں۔ اگلے 5، 6 روز تک باقیات لائی جاتی رہیں۔ 19 کو 15 باقیات اسپتال لائے گئے۔ 20 تاریخ کو 9، 21 تاریخ کو 22، 22 تاریخ کو 15، 23 تاریخ کو 4، 25 تاریخ کو 10 باقیات لائی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی 2 روز تک لائے جانے والے لاشیں بعد سے بہتر تھیں۔ بعد میں ٹکڑوں میں ہڈیاں لائی گئیں۔ ایک ایک پیکٹ میں 5 افراد کی باقیات لائی جارہی تھیں، 25 کو 73 باقیات پہنچیں، جس کے بعد جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے ڈی این اے طلب کئے۔

انہوں نے بتایا کہ 57 افراد نے خون کے نمونے دیئے ڈی این اے کے لئے 72 باڈیز کے لئے۔ جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیئے کہ ابتدائی شناخت کے بعد 66 ناقابل شناخت باڈیز باقی بچیں۔

جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس میں کہا کہ اس کا مطلب ہے 73 سے زائد ہلاکتیں ہوسکتی ہیں؟ پولیس سرجن نے کہا کہ 20 ڈی این اے سے شناخت ہوئی۔ دیگر باقیات سے ڈی این اے سیمپل نہیں مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ 1400-1600 درجہ حرارت میں 4 سے 5 گھنٹوں میں ڈی این اے ختم ہوجاتا ہے، یہاں 36 گھنٹوں تک آگ لگی ہوئی تھی۔ مقام پر موجودگی کی بنیاد پر بھی شناخت کی جاسکتی ہے۔

جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ وجہ اموات کیا تھی۔ پولیس سرجن نے کہا کہ دم گھٹنا اموات کی وجہ بنا۔ کمیشن کے سربراہ نے پوچھا کہ ایسی آگ میں کوئی بھی شخص کتنی دیر تک زندہ رہ سکتا ہے؟

ڈاکٹر سمیہ نے کہا کہ صحت مند شخص ہو تو وہ بہت زیادہ پانچ منٹ تک زندہ رہ سکتا ہے۔ اگر گیلا کپڑا منہ پر رکھ لیا جائے تو یہ وقت بڑھ سکتا ہے۔ 30 منٹ تک کا ونڈو دیا جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں