اداریہ
پاکستان کی سیاست میں تضادات کوئی نئی بات نہیں، مگر جب اقتدار کے ایوانوں سے سادگی اور عوامی خدمت کے دعوے بلند ہوں اور اسی دوران 10 ارب روپے کے جہاز کی خریداری کی خبریں گردش کریں تو سوال اٹھنا فطری ہے۔ اگر یہ معاملہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے منسوب ہو، تو اس کے سیاسی اثرات براہِ راست پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ساکھ پر پڑتے ہیں۔
تنقیدی زاویے سے دیکھا جائے تو یہ معاملہ صرف ایک جہاز کی خریداری نہیں بلکہ ترجیحات کا سوال ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں عوام مہنگائی، بجلی کے بلوں اور بے روزگاری کے بوجھ تلے دبے ہوں، وہاں اربوں روپے کی لگژری خریداری سیاسی قیادت کی حساسیت پر سوالیہ نشان لگا دیتی ہے۔ چاہے قانونی جواز موجود ہو، مگر اخلاقی جواز عوامی عدالت میں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
سیاسی طور پر اس کا سب سے بڑا نقصان بیانیے کو ہوتا ہے۔ اگر قیادت کفایت شعاری اور معاشی نظم و ضبط کی بات کرے اور عملی طور پر شاہانہ اخراجات کی تصویر سامنے آئے تو یہ تضاد مخالفین کے لیے سنہری موقع بن جاتا ہے۔ اپوزیشن اسے اشرافیہ کی سیاست کا ثبوت قرار دے کر عوامی غصے کو منظم کر سکتی ہے۔ خاص طور پر نوجوان ووٹر، جو شفافیت اور احتساب کے نعروں سے متاثر ہوتے ہیں، اس معاملے پر زیادہ سخت ردِعمل دے سکتے ہیں۔
مزید برآں، یہ معاملہ پارٹی کے اندر بھی سوالات کو جنم دے سکتا ہے۔ کارکنان جو گلی محلوں میں مہنگائی کے خلاف عوامی شکووں کا سامنا کرتے ہیں، ان کے لیے ایسے فیصلوں کا دفاع کرنا آسان نہیں ہوتا۔ نتیجتاً، قیادت اور کارکن کے درمیان فاصلہ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاست میں تاثر اکثر حقیقت سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ اگر بروقت اور مکمل شفافیت نہ دکھائی جائے، فنڈنگ کے ذرائع اور خریداری کی ضرورت واضح نہ کی جائے، تو خاموشی خود ایک اعتراف سمجھی جاتی ہے۔
تنقیدی طور پر دیکھا جائے تو 10 ارب روپے کا جہاز محض ایک اثاثہ نہیں بلکہ ایک علامت بن سکتا ہے—اختیارات کی مرکزیت، اشرافی طرزِ سیاست اور عوامی مسائل سے دوری کی علامت۔ اگر حکمران جماعت اس تاثر کو سنجیدگی سے نہ لے تو یہ معاملہ وقتی شور سے بڑھ کر طویل مدتی سیاسی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ سیاست میں اعتماد کا بحران ایک بار پیدا ہو جائے تو اسے بحال کرنا آسان نہیں ہوتا۔

