انڈیا کے واحد ہاتھی گاؤں کی دلچسپ زندگی

انڈیا کے گلابی شہر کے نام سے مشہور جے پور میں ملک کا اکلوتا ہاتھیوں کا گاؤں واقع ہے جو 2010 میں قائم کیا گیا تھا۔

ابھی اس گاؤں میں تقریباً 65 خاندان 70 سے زاہد ہاتھیوں کے ساتھ رہتے ہیں، یہ گاؤں دراصل 2010 میں حکومت راجستھان کے تحت بنایا گیا تھا۔ کہتے ہیں کہ یہ گاؤں نیا ضرور ہے، مگر یہاں رہنے والے خاندان پشتینی ہیں جو کئی پیڑھیوں سے ہاتھیوں کے ساتھ ہیں۔

ہاتھی گاؤں کے مکھیا بلو خان نے انڈپینڈینٹ اردو کو بتایا کہ ’جے پور اپنے شان دار ہاتھیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ کبھی یہی ہاتھی شاہی جلوسوں میں محلات کے دروازوں سے گزرتے تھے اور آج سیاحوں کو یہاں کے جے پور کے پہاڑی سلسلہ پر بادشاہ مان سنگھ کے ذریعہ تعمیر کردہ آمیر قعلہ  تک لے جا کر شہر کی پہچان بنے ہوئے ہیں۔‘

بلو خان جن کا تعل ہاتھی کے مہاوتوں کے خاندان سے ہیں، بتاتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب جے پور کے ہاتھی شہر کے مختلف حصوں میں آباد تھے۔ جب رجواڑی نظام کا خاتمہ ہوا تو قریب ایک صدی تک سینکڑوں ہاتھی اپنے مالکان اور مہاوتوں کے ساتھ زندگی شہر کے الگ الگ حصوں میں زندگی گزارنے لگے اور مختلف اسباب کے ذریعہ اپنی زندگی چلارہے تھے، لیکن 1970 کے آس پاس ہاتھیوں کے سہارے سیاحت کی شروعات ہوئی اور حکومت نے قلعوں میں ہاتھی کی سواری کا اہتمام کیا۔

اس وقت ہاتھیوں کو آمیر قلعہ یا دیگر سیاحتی مقامات تک لے جانے میں کافی وقت لگتا تھا، اسی لئے حکومت نے ایک ایسا گاؤں بسانے کا سوچا جہاں جے پور کے ہاتھی ایک جگہ رہ سکیں، ایسے میں 2010 میں یہ ہاتھی گاؤں بن کر تیار ہوا۔ جے پور کے مقامی انتظامیہ کے مطابق ہاتھیوں کو یہاں قدرتی ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، کیوں کہ یہ ہاتھی پیڑھی در پیڑھی مہاوتوں کے ساتھ رہتے ہیں آئے ہیں تو انہیں ایسا ہی ماحول دیا گیا۔

بلو خان کے مطابق ہاتھی گاؤں محض رہائشی کالونی نہیں بلکہ ہاتھیوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ہاتھی سے جڑے خاندانوں کی سماجی ترقی کا گاؤں ہے۔ یہاں ہاتھیوں اور مہاوتوں دونوں کے لیے منظم رہائش، ویٹرنری سہولیات اور پائیدار ڈھانچہ فراہم کیا گیا ہے۔
بلو خان کا کہنا ہے کہ ان کے آبا و اجداد ہمیشہ سے یہ چاہتے تھے کہ ہاتھی سے جڑے سارے خاندان ایک ساتھ رہیں، یہ خاندان زیادہ تر مسلمان ہیں۔

2010 میں جے پور کے پہاڑی سلسلہ کے نیچے معروف معمار راہل ملہتورا اور ان کی ٹیم نے تقریباً 100 ہیکٹر پر ایک گاؤں بسایا۔ جس میں لگ بھگ 100 مہاوت خاندانوں اور ان کے ہاتھیوں کے لیے رہائش کا انتظام کیا گیا۔ اس منصوبے کو ایک مثالی گاؤں کے طور پر ترتیب دیا گیا جہاں انسان اور جانور ہم آہنگی کے ساتھ رہ سکیں۔

اس گاؤں کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہاں مصنوعی جھیلیں اور پانی کے ذخائرہیں جو علاقے کو ٹھنڈا رکھتے ہیں۔ اسی کے ساتھ سڑکیں، صفائی، بجلی اور کمیونٹی ہال اور مہاوتوں کے بچوں کے لیے اسکول اور تربیتی مراکز۔

بلو خان کے مطابق جو ہاتھی گاؤں میں رہ رہے وہ دراصل ماضی میں شاہی جلوسوں اور جنگوں کا حصہ بننے والے ہاتھیوں کے خاندان سے ہیں، اب یہ صرف سیاحت، شادی یا سرکاری تقریبات کی زینت بنتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بلو خان اس بات کا شکوہ بھی کرتے ہیں ہاتھیوں سے ان کے صدیوں پرانے رشتے کو ماحولیات کے نظر سے دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے، بہت بار ایسا ہوتا ہے جب ہاتھیوں کے تعلق سے ان پر اعتراضات ہوتے ہیں، بعض این جی اوز کے ذریعہ جانوروں کے تحفظ کے قوانین کا سہارا لے کر انہیں پریشان کیا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ ہاتھی گاؤں میں رہ رہے ہاتھی براہ راست جنگل سے نہیں آئے، انہیں ہم نے پوچ نہیں کیا بلکہ وہ انسانی ماحول میں بریڈنگ کے ذریعہ پیدا ہوئے ہیں۔

 اب ہاتھی ہی ان کی روزی روٹی اور زندگی کا سہارا ہیں۔ ذاکر اور ان کے ساتھی کہتے ہیں ان کا وجود ہاتھیوں سے جڑا ہوا ہے۔ اگر ہاتھی نہیں رہیں گے تو وہ بھی نہیں رہیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہاتھی گاؤں دراصل ان کے لئے ایک حفاظتی مقام ہے جہاں وہ اپنی کمیونٹی میں محفوظ تصور کرتے ہیں اور اپنے آنے والی نسلوں کو اسی نظام میں رہنے کی تربیت دیتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں