پاکستانی خواتین صلاحیتوں سے بھرپور ہیں،زندگی کے ہر شعبے میں اپنی قابلیت منوا رہی ہیں، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری

اسلام آباد ( رپورٹر ) چیئرپرسن قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق سینیٹ، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا ہے کہ آج کے دور میں خواتین کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط اور دوراندیش پالیسی سازی ناگزیر ہو چکی ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومتی و سماجی سطح پر سنجیدہ اقدامات اور عملی حکمتِ عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ خواتین کو درپیش مسائل کا مؤثر حل ممکن بنایا جا سکے۔ اپنے ایک تفصیلی بیان میں انہوں نے کہا کہ دینِ اسلام نے خواتین کو عزت، تحفظ اور خودمختاری فراہم کی ہے، جس پر عمل پیرا ہو کر ایک مضبوط اور متوازن معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے خواتین کو جو جامع، متوازن اور باوقار حقوق عطا کیے ہیں، مغربی معاشروں میں ان کی حقیقی روح کے ساتھ مثال ملنا مشکل ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کی تعلیم، صحت اور معاشی خودمختاری پر خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ وہ قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ بلوچستان کے عوامی مسائل، بالخصوص خواتین کے حقوق کے حوالے سے ہر فورم پر بھرپور انداز میں آواز بلند کی گئی ہے اور آئندہ بھی اس جدوجہد کو مزید مؤثر اور مضبوط بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی دراصل پاکستان کی ترقی ہے، اور اس ضمن میں خواتین کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری سیاست کا محور صرف اقتدار نہیں بلکہ عوامی خدمت، انصاف اور مساوی ترقی ہے۔ ہم جمہوری اصولوں پر یقین رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ملک میں ایسی فضا قائم ہو جہاں ہر شہری کو برابر کے مواقع میسر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو سیاسی استحکام، معاشی بہتری اور ادارہ جاتی مضبوطی کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ملکی مفاد میں متحد ہونا ہوگا اور ایسی سیاست کو فروغ دینا ہوگا جو برداشت، رواداری اور مثبت سوچ پر مبنی ہو۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل اور خواتین کو قومی دھارے میں شامل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ پاکستانی خواتین، خصوصاً بلوچستان کی خواتین، صلاحیتوں سے بھرپور ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین نہ صرف گھر کی بنیاد مضبوط کرتی ہیں بلکہ معاشی، سماجی اور سیاسی میدان میں بھی نمایاں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا دراصل پورے معاشرے کو مضبوط بنانے کے مترادف ہے۔ ایک تعلیم یافتہ اور خودمختار خاتون نہ صرف اپنے خاندان بلکہ آنے والی نسلوں کی بہتر تربیت کا ذریعہ بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی شمولیت کے بغیر ترقی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔انہوں نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ آئینِ پاکستان خواتین کے حقوق کے تحفظ کی مکمل ضمانت فراہم کرتا ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان حقوق کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیاز اور تشدد کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ ہنر مند اور خوداعتماد خواتین معیشت کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں لہٰذا خواتین کو فنی تعلیم، روزگار کے مواقع اور کاروباری سہولیات فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس سلسلے میں مختلف اقدامات کر رہے ہیں جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جہاں خواتین کا احترام ہماری تہذیبی، سماجی اور مذہبی اقدار کا حصہ ہے۔ اسلام نے خواتین کو جو مقام دیا ہے وہ نہایت بلند اور قابلِ فخر ہے، اور ہمیں اسی روشنی میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کی ترقی کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خواتین کو بااختیار بنانے، ان کے تحفظ کو یقینی بنانے اور انہیں ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جاتے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں