کراچی (پ ر) آمدہ الیکشن میں جمعیت علماءے اسلام جموں و کشمیر سندھ و بلوچستان کے حلقہ سمیت آزاد کشمیر کے حلقوں سے امیدوار کھڑے کرے گی ۔آزاد حکومت وزارت مذہبی امور کی طرف سے مدارس کے لیے احکامات کو مسترد کرتے ہوءے وزیر کو برطرفی کا مطالبہ کرتے ہیں ۔مدارس ہوں یا کالج یونیورسٹی یا دیگر ادارے جراءم کو کنٹرول کرنا حکومتوں کاکام ہوتا ہے لیکن یہاں ایک سے بڑا ایک ظالم،مجرم مسلط ہے انصاف کے بول بالا کے لیے خدا کی زمین پر خدا کا نظام کا نفاذ فوری طور پر نافذ کرنا لازم ہے چور کا ہاتھ کاٹنا ،زانی کو رجم کرنا ،شرابی کو کوڑے مارنا ،قاتل کو بدلے میں قتل کرنا ،دھوکہ دہی کرنے والے کو سزا دینا ،مظلوم کو ظالم کے ظلم سے چھڑانا جب تک اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں ہوگا تو اس وقت تک ملک میں جراءم میں کمی اور امن نہیں ہو سکتا ،آزادکشمیر میں یہ کام جمعیت علماءے اسلام جموں و کشمیر کررہی ہے جس کے امیر مولانا سعید یوسف خان جنرل سیکرٹری مولانا مفتی محمود الحسن شاہ مسعودی ہیں اور پاکستان میں اس کا نظریاتی فکری قلبی تعلق جمعیت علماءے اسلام پاکستان سے ہے جس کے قاءد ملت اسلامیہ مولانا فضل الرحمان ہیں عوام وخواص اس کے دست وبازوں بنیں ان خیالات کا اظہار جمعیت علماءے اسلام جموں و کشمیر سندھ و بلوچستان زون کراچی کے زیر اہتمام اجلاس اور عید ملن پارٹی بمقام اقراء ام القریٰ ماڈل اسکول کراچی میں قاءدین جمعیت نے کیا ، اجلاس کی صدارت سینءر ناءب امیر مولانا مفتی عزیز الرحمن دانش نے کی۔ اجلاس میں کراچی بھر سے ڈویژن، اضلاع اور ٹاؤن کی سطح کے اکابرین و ذمہ داران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اجلاس میں شرکاء نے جماعتی امور، تنظیمی فعالیت اور آءندہ کے لاءحہ عمل پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوءے اپنی آراء و تجاویز پیش کیں۔ متفقہ طور پر مرکز کو تجویز دی گءی کہ آءندہ عام انتخابات میں ہر حلقے سے جماعت اپنی الگ شناخت کے ساتھ امیدوار میدان میں اتارے، خواہ ووٹوں کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو، جبکہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے معاملات میں مرکز کو مکمل اختیار حاصل ہوگا۔تنظیمی و تربیتی نظام کو مضبوط بنانے پر زوراجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جماعت کے ذمہ داران ہفتہ وار جوڑ کے پابند ہوں گے، جبکہ ہر ماہ ضلعی سطح پر امیر اور جنرل سیکرٹری اجلاس منعقد کریں گے، جس میں جماعتی کام، مقامی مساءل اور دستور و منشور پر فکری و تربیتی لیکچرز دیے جاءیں گے۔ مزید برآں، وقتاً فوقتاً 24 گھنٹوں پر مشتمل تربیتی اجتماعات کے انعقاد کی بھی تجویز دی گءی، جن میں مرکز کے ذمہ داران کی شرکت یقینی بناءی جاءے گی۔مالیاتی نظم و ضبط کی ہدایات شعبہ مالیات کے تمام نظماء کو ماہانہ دستوری فنڈ کی وصولی اور اسے ڈویژن تک پہنچانے کا پابند بنایا گیا، جبکہ مالیاتی نظام کو مؤثر بنانے کی ذمہ داری ڈویژن کے ناظم مالیات کو سونپی گءی۔حکومتی پالیسیوں پر تنقیداجلاس میں حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوءے فوری کمی کا مطالبہ کیا گیا۔قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہاراجلاس میں 90 سے زاءد قاءدین و ذمہ داران نے امیر مرکزیہ مولانا سعید یوسف خان اور جنرل سیکرٹری پیر طریقت رہبر شریعت حضرت مولانا مفتی محمود الحسن شاہ مسعودی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ مقررین نے کہا کہ جمعیت علماءے اسلام جموں و کشمیر ایک قدیم، نظریاتی اور دینی و مذہبی جماعت ہے، جس کا تسلسل 1932ء سے قاءم ہے اور آج بھی پاکستان و آزاد کشمیر میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ جماعت کا نظریاتی و فکری تعلق جمعیت علماءے اسلام پاکستان اور اس کی قیادت مولانا فضل الرحمان سے ہے۔اہم شخصیات کی شرکت اجلاس میں مولانا عبدالوحید ضلع شرقی ، مولانا شفیق الرحمن کشمیری ضلع کورنگی ، مولانا عبدالقادر گلشن ضلع شرقی ، مولانا مفتی نعمان سخی حسن ضلع وسطی مولانا قاضی منیب الرحمن ضلع ملیر ، مولانا مفتی فقیر محمد امیر ضلع کورنگی ، مولانا عبدالحفیظ شاہ ضلع ملیر مولانا اسامہ خطیب گلشن ضلع شرقی ، مولانا خواجہ افتخار ضلع شرقی ، مولانا غلام اللہ ضلع جنوبی ، مولانا محمد صدیق ضلع کورنگی ، مولانا احمد ضلع کورنگی قاری راجہ عرفان ضلع ملیر ، قاری برھان الدین ضلع غربی مولانا غازی عبدالواجد ضلع شرقی قاری محمد مسکین ضلع کورنگی ، مولانا انوار الحق ضلع وسطی مولانا منظور احمد فقیری ضلع ملیر ، مولانا عثمان حیات ایوب گوٹھ ضلع شرقی مولانا ہارون مغل ضلع غربی مولانا جاوید میر شاہ فیصل ٹاؤن ، مولانا حذیفہ شفیق شاہ فیصل ٹاؤن ضلع کورنگی سمیت دیگر رہنماؤں اور ذمہ داران نے شرکت کی۔اجلاس کے اختتام پر اہم تنظیمی فیصلے کیے گءے اور جماعتی سرگرمیوں کو مزید فعال بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

