تربت(این این آئی)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کیچ کے زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مکران میڈیکل کالج اور ٹیچنگ ہسپتال تربت کے ڈاکٹروں اور اساتذہ کی تنخواہوں کی بندش کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں شرکاء نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ مکران میڈیکل کالج اور ٹیچنگ ہسپتال تربت کے ڈاکٹرز اور فیکلٹی گزشتہ کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں جس کے باعث وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں۔ پی ایم اے کیچ کے عہدیداران نے کہا کہ تنخواہوں کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے، حالانکہ اس مسئلے کے حل کے لیے محکمہ صحت حکومت بلوچستان سے متعدد بار رابطے کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی کابینہ کی جانب سے اس مسئلے کے حل کی منظوری بھی دی جا چکی ہے، لیکن اس کے باوجود تاحال تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی گئی جو کہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ تشویش ہے۔ پی ایم اے کے مطابق مکران میڈیکل کالج اور ٹیچنگ ہسپتال تربت کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) اور کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) کی جانب سے گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل تعلیم کے لیے تسلیم کیا گیا ہے، اس کے باوجود یہاں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز بنیادی حق یعنی تنخواہوں سے محروم ہیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ اس سے قبل بھی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج اور ہڑتال کی جا چکی ہے، جس کے بعد صرف دو سے تین ماہ کی تنخواہیں جاری کی گئیں، تاہم فروری 2026 سے دوبارہ ادائیگی بند کر دی گئی ہے اور اب تین ماہ سے ڈاکٹرز اور اساتذہ بغیر تنخواہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔پی ایم اے کیچ نے وزیر اعلیٰ بلوچستان اور سیکرٹری صحت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس سنگین مسئلے کا نوٹس لیں اور تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنائیں تاکہ میڈیکل تعلیم کا تسلسل برقرار رہے اور عوام کو درپیش طبی سہولیات متاثر نہ ہوں۔اجلاس کے اختتام پر واضح انتباہ دیا گیا کہ اگر 20 اپریل 2026 تک تنخواہوں کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو پیر کے روز سے میڈیکل طلباء کی کلاسز اور او پی ڈی سروسز کا بائیکاٹ کیا جائے گا، جس کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ پی ایم اے کیچ نے خبردار کیا کہ اس تمام صورتحال کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

