کوئٹہ پریس کلب پر پولیس یلغار آزادی صحافت پر کھلا حملہ ہے،مولانا عبدالرحمن رفیق

کوئٹہ (این این آئی)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشیداحمد، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حاجی بشیراحمد کاکڑ، سیکرٹری اطلاعات عبدالغنی شہزاد، عبدالصمد حقیار، مفتی محمد ابوبکر، عبدالباری شہزاد، مولانا جمال الدین حقانی، مفتی رشیداحمد حقانی، حاجی عطاء محمد شمشوزئی اور دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ کوئٹہ پریس کلب کے اندر پولیس کا داخل ہونا صحافیوں کو ہراساں کرنا اور خوف و دباؤ کی فضا قائم کرنا نہ صرف آزادی صحافت پر کھلا حملہ ہے بلکہ آئینی و جمہوری اقدار کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔ پریس کلب صحافی برادری کا مقدس اور محفوظ ادارہ ہے جہاں پولیس گردی کسی صورت قابل قبول نہیں اس طرح کے ہتھکنڈے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ملک میں منظم انداز میں آزادی اظہار رائے اور آزاد صحافت کو کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے صحافیوں کو سچ لکھنے اور حقائق عوام کے سامنے لانے کی پاداش میں دیوار سے لگانا دراصل عوام کی آواز کو دبانے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہاکہ نااہل اور قابض حکمران ٹولہ اپنی بدترین ناکامیوں، عوام دشمن پالیسیوں اور گورننس کی مکمل تباہی کو چھپانے کے لیے سیاسی جماعتوں اور میڈیا کو نشانہ بنا رہا ہے۔ فارم 47 کے ذریعے مسلط کی گئی صوبائی حکومت اپنے ہر اقدام سے یہ ثابت کررہی ہے کہ وہ عوامی اعتماد سے محروم اخلاقی جواز سے عاری اور مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صحافیوں کے خلاف اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈے بند نہ کیے گئے اور آزادی صحافت کا گلا گھونٹنے کا سلسلہ ترک نہ کیا گیا تو جمعیت علماء اسلام صحافی برادری کے شانہ بشانہ کھڑی ہوکر ہر سطح پر بھرپور جدوجہد کرے گی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے صحافیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور پریس کلبوں کی حرمت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں