اداریہ
مائوں، بہنوں، اور نوجوانوں کے مستقبل پر سایہ ڈالنے والی خبر آج عالمِ انسانیت کے لیے تشویش کا سبب بنی ہوئی ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی جو طویل عرصے سے لامتناہی سیاسی تنازعوں کا حصہ رہی، چند روز قبل کھلے فوجی تصادم میں تبدیل ہوگئی ہے، جس کے سنگین اثرات اب پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں۔
گزشتہ چند دنوں میں امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران پر فضائی اور میزائل حملے شروع کیے، جسے واشنگٹن نے ‘آپریشن ایپک فیوری’ جیسا نام دیا ہے۔ ایران نے سخت ردعمل میں میزائلوں، ڈرونز اور دیگر عسکری وسائل سے جوابی کارروائیاں کی ہیں، جن کا دائرہ صرف ایران ہی تک محدود نہیں رہا بلکہ خلیجی ممالک اور لبنان تک پھیل گیا ہے۔
اس کشمکش کے نتیجے میں سیکڑوں افراد شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، جس میں عام شہری بھی شامل ہیں۔ خطے میں انسانی بحران گہرا ہو چکا ہے، اور عالمی طاقتیں تقسیم کی صورتحال میں پھنس گئیں ہیں۔ بعض یورپی ممالک امن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تعاون کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، مگر کوئی مؤثر عالمی حکمت عملی سامنے نہیں آئی ہے۔
یہاں صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں، بلکہ ایک عالمی امن اور اقتصادی استحکام کا امتحان ہے۔ توانائی کی عالمی منڈی خاص طور پر تیل کی رسد، ہوا باز بن کر رہ گئی ہے، جبکہ خطے کی سرحدوں پر خوف، دہشت اور بے یقینی نے زندگیوں کو تہہ و بالا کر دیا ہے۔ بدقسمتی سے ایسی صورتحال میں امن کا متبادل بھی دھندلا ہو جاتا ہے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ طاقتیں بڑھتی جارہی ہیں لیکن معصوم شہری ان طاقتوں کی بھٹکتی ہوئی گولیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ عالمی تنظیمیں، اقوام متحدہ اور طاقتور حکومتیں امن کی خاطر اپنا کردار ادا کریں، جنگی جنوں کو قابو میں لائیں اور سفارتی حل کی راہ اختیار کریں۔ اس وقت صرف بندوقوں کی گرج سے امن ممکن نہیں بلکہ گفت و شنید، تعاون اور رواداری کا راستہ ہی انسانیت کو بچا سکتا ہے۔

