کوئٹہ (این این آئی)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی نائب امیر اور ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشیداحمد، حاجی بشیراحمد کاکڑ، سیکرٹری مالیات حاجی صالح محمد نورزئی، مفتی رضا خان، حاجی ظفر اللہ کاکڑ، میر سرفراز شاہوانی، سالار مولوی علی جان، مولانا سید سعداللہ آغا، میر حشمت لہڑی، سیٹھ اجمل بازئی، مولوی نقیب اللہ ملاخیل اور دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ افغان مہاجرین کے نام پر شہریوں اور دکانداروں کو بلاجواز تنگ کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اصل فرض شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہے لیکن بدقسمتی سے پولیس جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے مہاجرین کے نام پر عام شہریوں کو ہراساں کرنے انہیں گرفتار کرنے اور مختلف حیلوں بہانوں سے رشوت وصول کرنے میں مصروف دکھائی دیتی ہے جو انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ اس وقت کوئٹہ شہر میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہوچکی ہے۔ شہر کا کوچہ کوچہ چوروں، ڈاکوؤں اور قاتلوں کی آماجگاہ بنتا جارہا ہے۔ آئے روز شہر کے مختلف علاقوں میں اسٹریٹ کرائم، چوری، ڈکیتی اور قتل کی وارداتیں رونما ہورہی ہیں جس سے شہری شدید خوف و ہراس اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ بیشتر وارداتوں کے بعد جرائم پیشہ عناصر بآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جبکہ پولیس ان عناصر کو گرفتار کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف لمحہ فکریہ ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی کئی سوالات کھڑے کرتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اپنی ناکامیوں کا ملبہ عوام پر ڈالنے کے بجائے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے ادا کرے اور شہر میں بڑھتے ہوئے جرائم کے سدباب کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرے انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہریوں اور تاجروں کو بلاوجہ تنگ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور اصل جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائی کی جائے تاکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوسکے اور عوام کو تحفظ کا احساس مل سکے۔

