کوئٹہ (این این آئی) جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ملک میں امن و امان کی ابتر صورتحال تشویشناک ہے جبکہ خطے میں جنگی حالات کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر حملے کے بعد جنگ خطے کے دروازے تک پہنچ چکی ہے اور پاکستان کے 25 کروڑ عوام مشکل وقت میں ایرانی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے رجیم چینج کے مقصد سے ایران پر حملہ کیا اور وہاں مسلسل بمباری کر کے عوام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ ایران کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی خودمختاری پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے اور امن کے قیام کے لیے مسلم ممالک کو کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان پر حملے آج بھی جاری ہیں تاہم پاکستان، ایران اور افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حکومتیں قیام امن میں ناکام ہو چکی ہیں اور بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث عوام شدید پریشان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے شکوے ہیں اور وہ احساس محرومی کا شکار ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے اور لاپتہ افراد کے مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے کیونکہ اس معاملے کی وجہ سے عوام خصوصاً نوجوانوں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ سی پیک منصوبوں میں بلوچستان کے عوام کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا جبکہ قومی شاہراہوں کی تعمیر سمیت بنیادی مسائل پر بھی توجہ نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی بنیادوں پر نکالا جانا چاہیے کیونکہ گولی اور بندوق کے زور پر عوام کے دل نہیں جیتے جا سکتے۔انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مسائل کے حل کے لیے قومی کانفرنسیں منعقد کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی جدوجہد کا مقصد صوبے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔

