اداریہ
دنیا اس وقت ایک نہایت حساس اور نازک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں مختلف خطوں میں جاری جنگیں اور سیاسی کشیدگیاں عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔ عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت اور مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی نئی کشیدگی نے اس خدشے کو مزید تقویت دی ہے کہ اگر حالات کو سنبھالا نہ گیا تو دنیا ایک بڑے عالمی تصادم کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
یورپ میں روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ اس وقت کی سب سے بڑی اور طویل جنگوں میں سے ایک ہے۔ یہ جنگ نہ صرف دونوں ممالک کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی ہے بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، خوراک کی قلت اور عالمی معاشی عدم استحکام اسی جنگ کے اثرات ہیں۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں فوجی اور شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری تنازع نے بھی عالمی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ غزہ میں ہونے والی شدید فوجی کارروائیوں اور بمباری کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی جاں بحق اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری کو سخت پریشان کر دیا ہے۔
اس تنازع کے ساتھ ساتھ امریکہ، ایران، اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امریکہ اسرائیل کا ایک اہم اتحادی ہے اور اسے سیاسی، معاشی اور عسکری حمایت فراہم کرتا ہے۔ دوسری جانب ایران فلسطینی مزاحمتی گروہوں اور خطے میں اپنے اتحادیوں کی حمایت کرتا ہے جس کے باعث ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔
عرب ممالک بھی اس صورتحال میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بعض عرب ممالک فلسطینیوں کی حمایت کرتے ہیں جبکہ کچھ ممالک سفارتی سطح پر توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خلیج کے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ فوجی تصادم کے خطرات نے عالمی سیاست کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
افریقہ میں سوڈان کی خانہ جنگی، یمن کا طویل تنازع اور ایشیا میں دیگر مسلح جھڑپیں بھی عالمی امن کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ ان جنگوں کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور ہزاروں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ جنگوں کی وجہ سے معیشتیں تباہ ہو رہی ہیں، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبے متاثر ہو رہے ہیں اور عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
ان تمام حالات میں سب سے زیادہ نقصان عام انسان کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جنگیں نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کرتی ہیں بلکہ معاشرتی ڈھانچے کو بھی کمزور کر دیتی ہیں۔ اس وقت دنیا میں کروڑوں افراد ایسے ہیں جو جنگوں اور تنازعات کے باعث اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔
ایسے حالات میں عالمی اداروں اور بڑی طاقتوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جنگ کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔ تاریخ یہ ثابت کر چکی ہے کہ جنگیں کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتیں بلکہ مزید تباہی اور مشکلات کو جنم دیتی ہیں۔
لہٰذا ضروری ہے کہ عالمی رہنما دانشمندی، برداشت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور دنیا کو ایک اور بڑی تباہ کن جنگ سے بچانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ امن، مکالمہ اور تعاون ہی وہ راستہ ہے جو انسانیت کو محفوظ مستقبل فراہم کر سکتا ہے۔

