اداریہ
ایران پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے کیے گئے حالیہ حملے عالمی سیاست میں ایک خطرناک رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ طاقت کے بل بوتے پر خودمختار ریاستوں کو نشانہ بنانا نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اقدام پورے خطے کو ایک نئی اور تباہ کن کشیدگی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ ایسی کارروائیاں عالمی امن کے لیے سنجیدہ خطرہ ہیں اور دنیا کو ایک غیر یقینی اور پرآشوب دور کی جانب لے جا سکتی ہیں۔
جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کی جانوں کا ضیاع، رہائشی علاقوں کی تباہی اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بربادی اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ طاقت کا بے دریغ استعمال ہمیشہ انسانی المیوں کو جنم دیتا ہے۔ جدید ہتھیاروں کی بارش میں سب سے زیادہ نقصان عام لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے، جن کا نہ جنگی فیصلوں سے کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی طاقت کی سیاست سے۔
دنیا کے طاقتور ممالک اگر مسائل کے حل کے لیے عسکری طاقت کو ہی واحد راستہ سمجھتے رہیں گے تو اس کا نتیجہ مزید جنگوں، عدم استحکام اور عالمی بداعتمادی کی صورت میں نکلے گا۔ اس کے برعکس عالمی مسائل کا پائیدار حل صرف سفارت کاری، سنجیدہ مکالمے اور باہمی احترام کے اصولوں پر ہی ممکن ہے۔ طاقت کے مظاہرے وقتی برتری تو دے سکتے ہیں، مگر وہ دیرپا امن کی ضمانت نہیں بن سکتے۔
اس تمام صورتحال میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی خاموشی بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر عالمی ادارے ایسے حساس اور خطرناک معاملات پر مؤثر اور بروقت کردار ادا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو بین الاقوامی قوانین کی حیثیت محض کاغذی دستاویزات تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ دنیا کو اس وقت ایک ایسے عالمی نظام کی ضرورت ہے جہاں طاقت نہیں بلکہ انصاف، قانون اور انسانیت کی بالادستی ہو۔
لہٰذا عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لے، جنگی اقدامات کو روکنے کے لیے مؤثر دباؤ ڈالے اور خطے کو مزید تباہی اور عدم استحکام کی طرف بڑھنے سے بچانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ بصورت دیگر یہ آگ صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے شعلے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

