اداریہ
عالمی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں پرانے عالمی نظام کے مستقبل پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد تقریباً تین دہائیوں تک مغربی طاقتوں، بالخصوص امریکہ اور اس کے اتحادیوں، نے عالمی سیاست، معیشت اور سکیورٹی کے نظام پر غالب اثر برقرار رکھا۔ مگر حالیہ برسوں میں رونما ہونے والے واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دنیا ایک نئے عالمی توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔
خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اور یوریشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگیاں اس تبدیلی کی علامت ہیں۔ ایران کے گرد پیدا ہونے والی جنگی صورتحال اور خطے میں جاری تنازعات نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ مغرب کی وہ غیر متنازعہ برتری، جو ماضی میں نظر آتی تھی، اب پہلے جیسی مضبوط نہیں رہی۔ عالمی سیاست میں طاقت کا توازن آہستہ آہستہ مختلف خطوں میں منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
اسی پس منظر میں چین اور روس کا بڑھتا ہوا تعاون عالمی نظام کی تشکیلِ نو میں ایک اہم عنصر بنتا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک اقتصادی، سفارتی اور عسکری سطح پر باہمی روابط کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ توانائی، تجارت اور دفاعی شعبوں میں ان کا اشتراک نہ صرف مغربی اتحاد کے لیے ایک چیلنج ہے بلکہ ایک متبادل عالمی بلاک کے امکان کو بھی تقویت دیتا ہے۔
دوسری جانب مسلم دنیا کے چند بڑے ممالک بھی ایک نئی سیاسی اور معاشی اہمیت کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ پاکستان، ترکی، ایران، سعودی عرب اور انڈونیشیا آبادی، جغرافیہ، فوجی صلاحیت اور اقتصادی امکانات کے لحاظ سے ایسی ریاستیں ہیں جو آئندہ دہائی میں عالمی سیاست میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ان ممالک کی جغرافیائی حیثیت بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے؛ کوئی وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر ہے، کوئی مشرقِ وسطیٰ کے توانائی وسائل پر اثر رکھتا ہے اور کوئی بحرِ ہند کی اہم گزرگاہوں پر واقع ہے۔
خلیجی خطے میں بھی نئی صف بندیاں بنتی نظر آ رہی ہیں۔ توانائی کی عالمی منڈی، علاقائی سکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے نئے ڈھانچے ایسی تبدیلیاں پیدا کر رہے ہیں جو آنے والے برسوں میں خطے کی سیاست کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔ اگر یہ ممالک باہمی تعاون کو مضبوط بناتے ہیں تو وہ عالمی معیشت اور سفارت کاری میں ایک مؤثر آواز بن سکتے ہیں۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی نظام میں تبدیلیاں کبھی اچانک اور مکمل نہیں ہوتیں۔ مغربی دنیا اب بھی اقتصادی، تکنیکی اور عسکری میدان میں بے پناہ قوت رکھتی ہے۔ اس لیے زیادہ درست تجزیہ یہ ہے کہ دنیا ایک “کثیر قطبی” نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں طاقت مختلف مراکز میں تقسیم ہو گی۔
ایسے میں پاکستان سمیت ابھرتی ہوئی ریاستوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ داخلی استحکام، اقتصادی ترقی اور علاقائی تعاون کو ترجیح دیں۔ عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں وہی ممالک حقیقی فائدہ اٹھا سکیں گے جو اپنی معیشت کو مضبوط، اداروں کو مستحکم اور خارجہ پالیسی کو متوازن رکھ سکیں۔
آنے والی دہائی یقیناً عالمی سیاست کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو دنیا ایک ایسے نظام میں داخل ہو سکتی ہے جہاں طاقت صرف ایک یا دو مراکز تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مختلف خطوں میں نئے مراکز ابھریں گے۔ یہی تبدیلی شاید اکیسویں صدی کے عالمی سیاسی منظرنامے کی سب سے نمایاں خصوصیت بننے جا رہی ہے۔
Load/Hide Comments

