پسنی فش ہاربر — حکومتی بے حسی کی ایک زندہ مثال

اداریہ

بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں واقع فش ہاربر ایک ایسا منصوبہ ہے جسے ماہی گیری کے فروغ، مقامی معیشت کی ترقی اور ہزاروں خاندانوں کے روزگار کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ برسوں گزر جانے کے باوجود یہ فش ہاربر مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکا۔ یہ صورتحال نہ صرف حکومتی نااہلی بلکہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے ساتھ مسلسل ہونے والی ناانصافی کی ایک واضح مثال بھی ہے۔
پسنی کے ماہی گیر دہائیوں سے سمندر سے رزق حاصل کرتے آئے ہیں۔ ان کی معیشت، ثقافت اور زندگی کا دارومدار سمندر پر ہے۔ لیکن جب ان کے لیے بنائے گئے بنیادی ڈھانچے کو فعال نہ کیا جائے تو یہ صرف ایک منصوبے کی ناکامی نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ پسنی فش ہاربر اگر مکمل طور پر آپریشنل ہو تو نہ صرف مقامی ماہی گیروں کو سہولت ملے بلکہ بلوچستان کی معیشت میں بھی نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس اہم منصوبے کے حوالے سے حکومت بلوچستان اور وفاقی حکومت دونوں کی جانب سے مسلسل بے حسی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ کئی سالوں سے مقامی آبادی، ماہی گیر تنظیمیں اور سماجی حلقے اس مسئلے کو اٹھا رہے ہیں، مگر عملی اقدامات نظر نہیں آتے۔ ہر چند سال بعد وعدے اور بیانات تو سامنے آ جاتے ہیں، مگر زمینی حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ جب ملک کے دوسرے حصوں میں ترقیاتی منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کیے جا سکتے ہیں تو بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے بنیادی معاشی منصوبوں کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے؟ پسنی فش ہاربر کی غیر فعالیت دراصل اس طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتی ہے جس میں بلوچستان کو ہمیشہ ترجیحات کی فہرست میں پیچھے رکھا جاتا ہے۔
حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایسے منصوبوں کو نظر انداز کرنا صرف معاشی نقصان نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مجروح کرتا ہے۔ اگر پسنی فش ہاربر کو فوری طور پر فعال بنایا جائے، اس کی سہولیات کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر کیا جائے اور ماہی گیروں کو مناسب سپورٹ فراہم کی جائے تو یہ پورے علاقے کے لیے معاشی انقلاب کا سبب بن سکتا ہے۔
وقت آگیا ہے کہ حکومت بلوچستان اور وفاقی حکومت بیانات اور وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کریں۔ پسنی فش ہاربر کو فوری طور پر مکمل طور پر فعال کیا جائے، اس کے انتظامی مسائل حل کیے جائیں اور مقامی ماہی گیروں کو وہ سہولیات فراہم کی جائیں جن کا ان سے برسوں پہلے وعدہ کیا گیا تھا۔
اگر اب بھی غفلت جاری رہی تو یہ صرف ایک بندرگاہ کی خاموشی نہیں ہوگی بلکہ ریاست کی بے حسی کی ایک اور تلخ داستان بن جائے گی، جس کا خمیازہ ہمیشہ کی طرح پسنی کے محنت کش ماہی گیر ہی بھگتیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں