اداریہ
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر دنیا کو ایک ممکنہ بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ مختلف خطوں میں جاری تنازعات، طاقتور ممالک کے درمیان مسابقت، اور جدید اسلحے کی دوڑ نے عالمی امن کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ عالمی قیادت ہوش مندی، تدبر اور سفارت کاری کو ترجیح دے، ورنہ اس کے نتائج پوری انسانیت کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
موجودہ حالات میں یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے بعض حصے خاص طور پر کشیدگی کا شکار ہیں۔ بڑی طاقتوں کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ محاذ آرائی نے علاقائی تنازعات کو عالمی رنگ دے دیا ہے۔ اقتصادی پابندیاں، فوجی اتحاد، اور پراکسی جنگیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دنیا ایک نئی سرد جنگ جیسے ماحول میں داخل ہو چکی ہے، جس کے گرم جنگ میں بدلنے کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی نے جنگ کی نوعیت کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ سائبر حملے، ڈرونز، اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ہتھیار اب جنگی حکمت عملی کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ تبدیلی نہ صرف جنگ کو زیادہ پیچیدہ بناتی ہے بلکہ عام شہریوں کے لیے خطرات میں بھی اضافہ کرتی ہے۔
اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کا کردار اس وقت انتہائی اہم ہو چکا ہے۔ بدقسمتی سے، عالمی طاقتوں کے مفادات کے ٹکراؤ نے ان اداروں کی مؤثریت کو محدود کر دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کرے۔
اگر دنیا نے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا تو ایک بڑی عالمی جنگ نہ صرف معیشتوں کو تباہ کرے گی بلکہ انسانی جانوں کا ناقابلِ تلافی نقصان بھی ہوگا۔ لہٰذا، یہ وقت ہے کہ طاقت کے بجائے عقل و دانش کو فوقیت دی جائے اور امن کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

