امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز کو کھولنے پر اتفاق ہوگیا لیکن اس پر عمل درآمد کب اور کیسے ہوگا اس پر فریقین سمیت ماہرین بھی تذبذب کا شکار ہیں۔
پینٹاگون میں اپنی تازہ میڈیا بریفنگ میں امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کھل چکی ہے۔ امریکی فوج اب بھی خطے میں موجود رہے گی تاکہ ایران جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے۔
دوسری جانب ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی ہے اور اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ کو کل یا جمعہ تک محدود اور کنٹرولڈ انداز میں کھولنے پر غور کر رہا ہے اور یہ پاکستان میں متوقع ایران امریکا مذاکرات سے قبل ممکن ہے۔
البتہ ایرانی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ اگر مذاکرات کے لیے فریقین کے درمیان کسی فریم ورک پر اتفاق ہو جائے تو آبنائے ہرمز کو ایران کے کنٹرول میں محدود پیمانے پر کھولا جا سکتا ہے۔ اس دوران تمام بحری جہازوں کے لیے ایرانی فوج کے ساتھ ہم آہنگی لازمی ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت فوری طور پر معمول پر نہیں آئے گی بلکہ اعتماد کی بحالی میں کچھ وقت درکار ہوگا۔

