400 کلو گمشدہ چاندی کی تلاش

رؤف کلاسرا
آج کل پارلیمان کا اجلاس ہو رہا ہے۔ صبح قومی اسمبلی کا سیشن ہوتا ہے تو دوپہر کے بعد سینیٹ کا اجلاس۔ اس دوران قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس بھی چل رہے ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان اجلاسوں میں کورم پورا نہیں ہوتا۔ جو ارکانِ اسمبلی ایوان تک پہنچنے کیلئے تن‘ من‘ دھن کی بازی لگا دیتے ہیں وہ اب ہاؤس میں نظر نہیں آتے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ 340 ارکان کے ایوان میں کورم پورا کرنے کیلئے84 ارکان بھی موجود نہ ہوں؟ تقریباً ڈھائی سو ارکان آخر کہاں غائب ہوتے ہیں؟ ان سب کو اجلاس کا باقاعدہ نوٹس ملتا ہے کہ فلاں تاریخ کو اجلاس ہے‘ ہوائی جہاز کے فری ٹکٹ بھی بھیجے جاتے ہیں۔ اگر کوئی گھر سے گاڑی پر آ رہا ہو تو اسے گھر سے پارلیمنٹ لاجز تک پٹرول یا ڈیزل کا مکمل خرچہ دیا جاتا ہے۔ پھر اگر کمال مہربانی کرتے ہوئے وہ اجلاس میں چلا جائے تو اجلاس میں تھوڑی دیر بیٹھنے کا الگ سے بھاری الاؤنس ملتا ہے۔ اسی طرح اگر وہ قائمہ کمیٹی کا اجلاس اٹینڈ کرے تو ایک اجلاس کا ایک لاکھ روپے الگ سے ملتا ہے‘ اور ہر رکن چار پانچ کمیٹیوں کا ممبر ہوتا ہے۔ ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اگر بالمشافہ شریک نہ ہوں تو کم از کم وڈیو کال پر ہی اجلاس اٹینڈ کر لیں تاکہ ایک لاکھ روپے ضائع نہ ہوں۔ اکثر تو صرف حاضری لگوا کر اجلاس سے رخصت ہو جاتے ہیں کہ ایک لاکھ پکا ہوا۔ ایک بار ایک قائمہ کمیٹی کے چار پانچ ارکان بیرونِ ملک سرکاری دورے پر تھے۔ انہوں نے ہوٹل لاؤنج میں بیٹھے بیٹھے وڈیو کال سے اجلاس میں شرکت کی۔ موبائل کیمرا آن کیا‘ چند لمحے اپنا چہرہ اسلام آباد میں جاری اجلاس میں دکھایا اور پھر وڈیو بند۔ حاضری لگ گئی‘ ایک ایک لاکھ پکا ہو گیا۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ بیرونِ ملک جانے والے ارکان ایئر پورٹ جاتے ہوئے گاڑی سے چند لمحوں کیلئے وڈیو کال پر آئے اور پھر غائب ہو گئے۔ لیکن یہی ارکانِ ملک میں ہوتے ہوئے اسمبلی کے اجلاس میں نہیں آتے کیونکہ وہاں نہ آنے پر بھی تنخواہ پوری ملتی ہے۔ پورا مہینہ اجلاس نہ ہو تب بھی مکمل تنخواہ ملتی ہے۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ ذرا ان کی مراعات پر بھی نظر ڈال لیں۔ تمام ارکانِ اسمبلی اور ان کے بچوں کو سفارتی پاسپورٹ ملتے ہیں‘ جن پر دنیا کے تیس ممالک میں ویزا آن آرائیول کی سہولت اور پروٹوکول ملتا ہے۔ ابھی آپ نے اقبال آفریدی کے بیٹے کا سنا ہو گا جس نے والد کی وجہ سے سفارتی پاسپورٹ حاصل کیا اور اٹلی جا کر سیاسی پناہ مانگ لی۔ اس کے علاوہ ہر رکن کو کروڑوں روپے کا ترقیاتی فنڈ ملتا ہے جس میں بقول شاہد خاقان عباسی تیس فیصد کمیشن کھایا جاتا ہے (یقینا سب نہیں کھاتے)۔ تمام ارکان اور ان کی فیملی کا علاج مفت ہوتا ہے۔ پھر قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین اور پارلیمانی سیکریٹریز کو سرکاری گاڑیاں‘ مفت پٹرول اور دیگر سہولتیں بھی ملتی ہیں۔ تنخواہیں انہوں نے خود ہی بڑھا کر سات‘ آٹھ لاکھ روپے ماہانہ تک پہنچا دی ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود نہ یہ لوگ ایوان میں آتے ہیں نہ ملک اور عوام کے مسائل پر بحث کو ترجیح دیتے ہیں۔ میرا 24 برسوں کا پارلیمانی رپورٹنگ کا تجربہ کہتا ہے کہ یہ سب بڑے سکون سے رہتے ہیں‘ انہیں عوام صرف اپوزیشن کے دنوں میں اچھے لگتے ہیں اور تب وہ عوام کے دکھ درد میں مرے جاتے ہیں۔ حکومت میں آتے ہی انہیں لگنے لگتا ہے کہ جو بھی عوامی مسائل یا حکومتی نااہلی پر بات کرتا ہے وہ دراصل ملک کے خلاف سازش کر رہا ہے‘ جمہوریت کا دشمن ہے یا غیرجمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ایسے وقت میں انہیں جج‘ جرنلسٹ اور جنرل سب اپنے مخالف دکھائی دیتے ہیں۔
آپ ہی بتائیں‘ سات‘ آٹھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ‘ فری عالمی و مقامی سفر‘ ڈالروں میں ٹی اے ڈی اے‘ ہر اسمبلی اجلاس کا الگ الاؤنس‘ قائمہ کمیٹی اجلاسوں کا ایک لاکھ روپے معاوضہ‘ کروڑوں کا ترقیاتی بجٹ‘ فیملی سمیت سفارتی پاسپورٹ‘ مفت علاج‘ سرکاری گاڑی‘ پٹرول اور ڈرائیور جیسی سہولتیں میسر ہوں‘ ہر ماہ محض چند دن اجلاس ہوں اور باقی دن یا تو اپنا کاروبار کریں‘ حلقے میں مزے سے رہیں یا ترقیاتی فنڈ کیلئے من پسند ٹھیکیدار تلاش کریں‘ مگر پھر بھی 340 ارکان کے ہاؤس میں 84 ارکان تک موجود نہ ہوں۔ آخر اس رویے اور اس جمہوریت کو کیا نام دیا جائے؟ ذہن میں رکھیے کہ اس ایوان میں پہنچنے کیلئے یہ لوگ کس قدر خوار ہوتے ہیں۔ لیڈروں کی خوشامدیں‘ پارٹی فنڈ کے نام پر کروڑوں کا چندہ‘ مار دھاڑ‘ جیلیں‘ حملے‘ پھانسیاں‘ یہ سب آخر کس لیے؟ اگر مقصد صرف تنخواہیں لینا اور مراعات انجوائے کرنا ہے تو پھر عوامی نمائندگی کا دعویٰ کیوں؟ جن عوام کے نام پر یہ اقتدار میں آتے ہیں وہی عوام بجلی‘ پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ذریعے ان کی تنخواہوں‘ لائف سٹائل اور مراعات کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ بدلے میں عوام کو کیا ملتا ہے‘ مزید مراعات یافتہ اشرافیہ؟
ایک خاتون سینیٹر سے اسی موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی۔ کہنے لگیں: عوام ہمارے خلاف ہو گئے ہیں‘ انہیں لگتا ہے ہم لوگ بہت عیاشی کرتے ہیں‘ لوگ ہماری تنخواہوں سے لے کر پاسپورٹ تک ہر چیز پر اعتراض کرتے ہیں۔ میں نے پوچھا: اگر سیاست اور رکنیت میں کچھ حاصل نہیں ہوتا تو پھر آپ لوگ اسمبلی تک پہنچنے کیلئے جان کی بازی کیوں لگا دیتے ہیں؟ آخر کچھ تو ایسا ہے جو آپ کو تمام خطرات کے باوجود یہاں تک لے آتا ہے۔ ہمارے ساتھی سیاسی رپورٹر صدیق ساجد نے ایک ٹویٹ کے ذریعے دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔ خالی اسمبلی ہال دیکھ کر انہوں نے لکھا: ایوانِ زیریں میں 236 ارکان کی حمایت والی حکومت قومی اسمبلی کا کورم پورا کرنے میں مسلسل ناکام؛ حالانکہ محض 84ارکان کی موجودگی لازمی ہے۔ مگر ارکان کی عدم دلچسپی کے باعث روز کورم ٹوٹ رہا ہے۔ قومی اسمبلی کا ایک دن کا اجلاس قومی خزانے پر دو کروڑ چالیس لاکھ روپے کا بوجھ ڈالتا ہے مگر کسی کو پروا نہیں جبکہ دعویٰ کفایت شعاری اور بچت کا کیا جاتا ہے۔
ذرا اندازہ کیجیے‘ ایک اجلاس پر دو کروڑ چالیس لاکھ روپے خرچ ہو رہے لیکن اجلاس اس لیے شروع نہیں ہو پا رہا کہ اکثریتی ارکان کا اجلاس میں شرکت کا موڈ نہیں۔ انہی اخراجات کو پورا کرنے کیلئے اس ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا کر عوام کو رلایا جا رہا ہے مگر عوام سے وصول کیا گیا پیسہ اسمبلی کے خالی ہالوں پر ضائع ہو رہا ہے۔ اگر ارکان کا اجلاس میں آنے کا ہی موڈ نہیں تو اجلاس بلایا کیوں جاتا ہے؟ شاید اب پہلے تمام ارکان کو فون کر کے پوچھنا پڑے کہ ”ظلِ الٰہی‘‘ کا موڈ کب بنے گا‘ تا کہ اجلاس رکھا جا سکے۔ اگر ایسا ہو جائے تو یقینا 340ارکان 300 الگ الگ تاریخیں دیں گے۔ بہرحال یہ طے ہے کہ جس پارلیمنٹ کو وزیراعظم اور ان کے وزرا سنجیدگی سے نہیں لیں گے اس کے ارکان بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیں گے۔
اب ایک دلچسپ مگر افسوسناک بات سنیں۔ بدھ کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں سینیٹر طلحہ محمود نے انکشاف کیا کہ کوئٹہ میں چھ سو کلو چاندی کسٹمز نے پکڑی جسے بعد میں لاہور منتقل کیا گیا مگر جب لاہور میں اس کا وزن کیا گیا تو وہ صرف دو سو کلو نکلی۔ یعنی کوئٹہ سے لاہور تک کے سفر میں چار سو کلوچاندی غائب ہو گئی۔ جمعرات کو سینیٹ فنانس کمیٹی کے اجلاس میں‘ جس کے طلحہ محمود بھی رکن ہیں‘ انہوں نے ایف بی آر افسران سے دوبارہ سوال کیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ چار سو کلو چاندی راستے میں غائب ہو گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملہ وزیراعظم شہباز شریف تک پہنچ چکا ہے اور انہوں نے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا ہے کہ یہ چاندی کہاں اور کیسے غائب ہوئی۔ ویسے حیرت یہ ہے کہ دو سو کلو چاندی خیریت سے لاہور پہنچ گئی۔ سو آج چار سو کلو چاندی پر فوکس رکھیے‘ جس کی تلاش بقول کمیٹی میں موجود افسران‘ ہمارے وزیراعظم کو بھی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں