روشنیوں کے شہر میں اندھیروں کا نوحہ: چار چہروں کی بے آواز قیامت

تحریر: رشیداحمدنعیم

یہ دنیا بظاہر روشنیوں کا ایک شہر معلوم ہوتی ہے۔چمکتے بازار، بلند عمارتیں، مصروف سڑکیں، ہنستے چہرے مگر ذرا سا پردہ ہٹایا جائے تو اسی دنیا کے سینے میں ایک ایسا اندھیرا دھڑکتا ہے جو روشنی کو نگل لیتا ہے۔ یہ اندھیرا کسی ویران جنگل یا سنسان قبرستان میں نہیں ہے بلکہ ہمارے اپنے معاشرے کے بیچوں بیچ پلتا ہے۔ اس اندھیرے کی پہچان چار چہرے ہیں۔
یتیم بچہ
محتاج آدمی
بدصورت عورت
بے روزگار نوجوان
یہ چاروں کوئی علامت نہیں، کوئی مبالغہ نہیں بلکہ زندہ حقیقتیں ہیں۔ایسی حقیقتیں جو خاموشی سے روتی ہیں اور جن کا رونا کسی کے کانوں تک نہیں پہنچتا۔
یتیم بچے کے نصیب میں ماں کی گود کی خوشبو نہیں ہوتی ہے۔ باپ کے ہاتھ کی مضبوطی نہیں ہوتی ہے۔ لوریوں کی مدھم دھن نہیں ہوتی ہے۔ اس کے لیے رات صرف اندھیرا نہیں ہوتی بلکہ ایک لمبی سسکی ہوتی ہے جو اس کے دل سے اٹھتی ہے اور کمرے کی خاموش دیواروں سے ٹکرا کر واپس اس کے سینے میں اتر جاتی ہے۔ وہ جب سوتا ہے تو اس کے خوابوں میں بھی ادھورے چہرے آتے ہیں۔کوئی اسے تھپکی دینے والا، کوئی اس کے ماتھے کو چومنے والا، کوئی اس کے آنسو پونچھنے والامگر جیسے ہی وہ آنکھ کھولتا ہے توحقیقت اس کے سامنے ایک سرد پتھر کی طرح آ کھڑی ہوتی ہے۔ اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ جو کھلونوں کے لیے بنے تھے اب خالی رہتے ہیں اور اس کا دل جو محبت کے لیے بنا تھا محرومی سے بھر جاتا ہے۔ وہ دوسروں کے باپ کو دیکھتا ہے تو اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا سوال تیرنے لگتا ہے”میرے حصے میں یہ سایہ کیوں نہ آیا؟“مگر اس سوال کا جواب دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔ وہ بچہ وقت سے پہلے بڑا ہو جاتا
ہے مگر اس کی بڑائی میں معصومیت کی لاش دفن ہوتی ہے اس کی ہنسی میں ایک ٹوٹا ہوا ساز چھپا ہوتا ہے اور اس کی خاموشی میں ایک ایسا نوحہ گونجتا ہے جو سننے والے کے دل کو چیر کر رکھ دے۔
محتاج آدمی جو کبھی اپنی محنت پر فخر کرتا تھا۔ جو کبھی اپنے بچوں کے لیے ڈھال بنا کھڑا رہتا تھا۔ آج حالات کے ہاتھوں یوں ٹوٹا ہے کہ اس کے اپنے سائے نے بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ جب وہ کسی کے دروازے پر دستک دیتا ہے تو اس کے ہاتھ کانپتے ہیں۔ اس کی نظریں جھکی ہوتی ہیں۔ اس کی آواز گلے میں کہیں اٹک جاتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ روٹی مانگ رہا ہے مگر حقیقت میں وہ اپنی عزت کا ایک ٹکڑا کسی کے قدموں میں رکھ رہا ہوتا ہے۔ لوگ اسے دیکھتے ہیں کچھ ترس سے، کچھ نفرت سے، کچھ بیزاری سے مگر کوئی اس کے اندر کے طوفان کو نہیں دیکھتا۔ اس کے بچوں کی بھوک اس کے سینے میں آگ بن کر جلتی ہے اور وہ باپ اس آگ کو بجھانے کے لیے خود کو راکھ کر دیتا ہے۔ وہ رات کو جب گھر لوٹتا ہے تو اس کے ہاتھ خالی ہوتے ہیں اور اس کی آنکھوں میں ایک شکستہ سا اندھیرا ہوتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کی نظروں سے بچتا ہے۔ اپنی بیوی کے سوالوں سے نظریں چراتا ہے۔ اپنے وجود سے نظریں نہیں ملا پاتا۔ اس کی ہر سانس ایک بوجھ بن جاتی ہے۔ اس کی ہر دھڑکن ایک اذیت کا روپ دھار لیتی ہے۔ وہ زندہ رہنے کی سزا کاٹتا ہے اور اس سزا میں کوئی رہائی نہیں ہوتی۔
بدصورت عورت جسے اس دنیا نے کبھی پوری طرح قبول ہی نہیں کیا۔ اس کا جرم یہ نہیں کہ اس نے کوئی غلطی کی ہے بلکہ اس کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ ان چہروں جیسی نہیں جنہیں معاشرہ خوبصورتی کا معیار سمجھتا ہے۔ وہ جب آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی ہے تو اسے اپنا چہرہ نہیں دکھائی دیتا۔ اسے لوگوں کے طنز، ان کی ہنسی، ان کی نظریں دکھائی دیتی ہیں۔ اس کے دل میں بھی محبت کا ایک نرم گوشہ ہوتا ہے۔وہ بھی چاہتی ہے کہ کوئی اسے دیکھے، سمجھے، اس کی قدر کرے مگر ہر بار اس کے حصے میں انکار آتا ہے یا خاموش و نظراندازی آتی ہے۔ اس کی مسکراہٹ میں ایک درد چھپا ہوتا ہے۔اس کی آنکھوں میں ایک
دبی ہوئی نمی اور اس کے وجود میں ایک مسلسل احساسِ کم تری محسوس ہوتی ہے۔ وہ محفل میں ہوتی ہے مگر تنہا ہوتی ہے۔ وہ ہنستی ہے مگر اس کی ہنسی میں ایک سسکی شامل ہوتی ہے۔ وہ جیتی ہے مگر جیسے اپنی ذات کا ماتم کرتی ہوئی۔ اس کے خواب بھی ہوتے ہیں مگر وہ خواب اکثر اس کے اپنے ہاتھوں ہی دفن ہو جاتے ہیں کیونکہ اسے سکھا دیا گیا ہے کہ وہ ان خوابوں کی مستحق نہیں۔ یہ ایک ایسا دکھ ہے جو نہ زبان پر آتا ہے نہ آنکھوں سے بہتا ہے۔یہ دل کے کسی کونے میں جم جاتا ہے اور وہاں ایک خاموش قبر بنا لیتا ہے۔
بے روزگار نوجوان جو امیدوں کا بوجھ اٹھائے زندگی کی دوڑ میں شامل ہوا تھا مگر ہر موڑ پر ٹھوکر کھا کر گر گیا۔ اس نے کتابیں پڑھیں، راتیں جاگ کر محنت کی، خوابوں کو آنکھوں میں بسایامگر جب وقت آیا کہ وہ ان خوابوں کو حقیقت میں بدل سکے تو دروازے اس کے منہ پر بند کر دیے گئے۔ ہر انٹرویو کے بعد اس کے قدم بھاری ہو جاتے ہیں۔ ہر انکار اس کے دل میں ایک نیا زخم چھوڑ جاتا ہے۔ گھر والوں کی نظریں اس کا پیچھا کرتی ہیں۔امید بھری، سوالیہ، کبھی کبھی مایوس اور وہ ان نظروں سے بچنے کے لیے خود میں سمٹ جاتا ہے۔ اس کے دوست آگے بڑھ جاتے ہیں۔ زندگی میں مقام حاصل کر لیتے ہیں۔وہ وہیں کھڑا رہ جاتا ہے۔ایک ایسے مقام پر جہاں وقت بھی رک سا جاتا ہے۔ اس کی ہنسی کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ اس کی باتوں میں تلخی آ جاتی ہے۔ اس کے اندر ایک ایسا خلا پیدا ہو جاتا ہے جو کسی چیز سے نہیں بھرتا۔ وہ رات کو جاگتا ہے۔چھت کو گھورتا ہے۔ اپنے مستقبل کے اندھیرے سے خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ اس کے خواب ایک ایک کر کے ٹوٹتے ہیں اور وہ ان کے ملبے تلے دب کر سانس لینے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ چاروں چہرے چاروں کہانیاں نہیں یہ ایک اجتماعی نوحہ ہیں۔ ایک ایسا ماتم جو ہم سب کے ضمیر پر ہونا چاہیے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم نے ترقی کے شور میں انسانیت کی آواز کھو دی ہے۔ ہم نے خوشیوں کے میلے سجا لیے مگر ان کے لیے کوئی جگہ نہ بنائی جو غم کے اندھیروں میں کھڑے تھے۔ ہم نے عمارتیں بلند کیں مگر دلوں کو تنگ کر لیا۔ ہم نے وسائل بڑھائے مگر رحم کم کر دیا۔ جب رات گہری ہوتی ہے اور دنیا سو جاتی ہے، تو یہی چاروں چہرے جاگتے ہیں۔ یتیم بچہ اپنی تنہائی سے لپٹ کر روتا ہے۔ محتاج آدمی اپنی بے بسی کو سینے سے لگا کر سسکتا ہے۔ بدصورت عورت اپنے وجود کے زخموں کو سہلاتی ہے۔ بے روزگار نوجوان اپنے ٹوٹے خوابوں کا حساب لگاتا ہے۔ اس وقت فضا میں ایک ایسا سکوت ہوتا ہے جو چیخوں سے زیادہ بلند ہوتا ہے۔ دل پر ایک ایسا بوجھ اترتا ہے جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا اور آنکھوں میں آنسو یوں اترتے ہیں جیسے کسی نے اندر سے ایک بند ٹوٹ جانے دیا ہو۔
یہ دنیا واقعی ایک عجیب جگہ ہے۔یہاں سب کچھ نظر آتا ہے مگر اصل دکھ چھپے رہتے ہیں اور جو ان دکھوں کو دیکھ لے، محسوس کر لے وہ پھر کبھی پہلے جیسا نہیں رہتا کیونکہ یہ چار چہرے انسان کو اس کی اپنی حقیقت دکھا دیتے ہیں۔ایک ایسی حقیقت جس میں خوشی کم اور درد زیادہ ہے۔ روشنی کم اور اندھیرا زیادہ تاریک ہے اور جہاں ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک چھپا ہوا نوحہ سسک رہا ہوتا ہے

03014033600
rasheed03014033622@gmail.com

اپنا تبصرہ بھیجیں