اے آر طارق
بین الاقوامی سیاست کے میدان میں بعض اوقات ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب کسی بڑی طاقت کے رہنما کے بیانات خود ہی ایک معمہ بن جاتے ہیں۔حالیہ عرصے میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے بھی کچھ ایسی ہی کیفیت پیدا کردی ہے جہاں ان کی گفتگو بظاہر کسی واضح حکمت عملی کی عکاسی کرنے کے بجائے تضادات، بے ربطی اور داخلی کشمکش کا عکس محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا منظرنامہ کچھ یوں دکھائی دیتا ہے جیسے ٹرمپ خود سے ہی مکالمہ کر رہے ہوں۔ایک ایسا مکالمہ جس میں سوال بھی وہی اٹھاتے ہیں اور جواب بھی خود ہی دیتے ہیں مگر نتیجہ پھر بھی ابہام ہی رہتا ہے۔
ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران ٹرمپ کے بیانات کا جائزہ لیا جائے تو ایک طرف وہ بارہا یہ کہتے نظر آئے کہ ”ایران اگر بات کرنا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں ”مگر دوسری طرف وہی ٹرمپ سخت ترین دھمکیوں کا سہارا لیتے ہوئے یہ بھی کہتے دکھائی دیے کہ ”اگر ایران نے کوئی قدم اٹھایا تو اسے ایسی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی”۔ کبھی وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جنگ نہیں چاہتے اور اگلے ہی لمحے یہ بیان دیتے ہیں کہ امریکہ کے پاس دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت موجود ہے اور وہ اسے استعمال کرنے سے ہچکچائیں گے نہیں۔یہ تضاد صزف بیانات تک محدود نہیں بلکہ پالیسی کے تاثر میں بھی واضح نظر آتا ہے۔ ایک موقع پر وہ ایران کی قیادت کو ”سمجھدار فیصلے” کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جبکہ دوسرے موقع پر سوشل میڈیا پر انتہائی سخت اور دھمکی آمیز زبان استعمال کرتے ہوئے ایران کو براہ راست نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے بیانات میں کبھی سفارتی لچک نظر آتی ہے اور کبھی انتہائی جارحانہ لہجہ، جیسے ایک ہی وقت میں دو مختلف سوچیں متحرک ہوں ایک مفاہمت کی طرف مائل اور دوسری محاذ آرائی کی طرف۔یہ صورتحال کسی بھی سنجیدہ عالمی بحران میں خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ عالمی سیاست میں استحکام کا انحصار واضح اور مستقل پالیسیوں پر ہوتا ہے۔جب ایک بڑی طاقت کا رہنما ہی غیر یقینی اور متضاد پیغامات دے تو نہ صرف حریف بلکہ اتحادی بھی الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی کچھ اس معاملے میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے جہاں ٹرمپ کے بیانات نے صورتحال کو سلجھانے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایران جو پہلے ہی خطے میں اپنی مضبوط پوزیشن اور خودمختار پالیسی کے لیے جانا جاتا ہے. اس قسم کے بیانات کو کبھی امریکی کمزوری کے اشارے کے طور پر لیتا ہے اور کبھی اشتعال انگیزی کے طور پر۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کی جانب سے ردعمل بھی کبھی سخت اور کبھی محتاط نظر آتا ہے۔اس کشمکش میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے اور ایسے میں کسی بھی غلط فہمی کا نتیجہ خطرناک تصادم کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
ٹرمپ کے بیانات کا ایک اور پہلو ان کا انداز گفتگو ہے جو اکثر سنجیدہ سفارتی زبان سے ہٹ کر ذاتی، جذباتی اور بعض اوقات اشتعال انگیز رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ ایران کو کھلے عام خبردار کرتے ہوئے ایسے جملے استعمال کرتے رہے جو روایتی سفارتی آداب سے ہٹ کر تھے جیسے ”ایران نے اگر امریکہ کو دھمکی دی تو ہم اس کا ایسا جواب دیں گے جس کی مثال نہیں ملے گی”۔ اس قسم کی زبان نہ صرف کشیدگی میں اضافہ کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بے چینی کو بھی بڑھاتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ”ٹرمپ کی ٹرمپ سے باتیں ” کا تصور ابھرتا ہے۔ ایک طرف وہ خود کو طاقتور اور فیصلہ کن رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف ان کے بیانات میں بے چینی اور عدم استحکام کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ خود ہی اپنے موقف کو چیلنج کر رہے ہوں اور خود ہی اس کا دفاع بھی کر رہے ہوں۔ ایک بیان میں وہ مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور دوسرے میں اسی امکان کو اپنی ہی دھمکیوں سے کمزور کر دیتے ہیں۔
اس تمام صورتحال میں میڈیا کا کردار بھی اہم ہے جو ان بیانات کو نہ صرف رپورٹ کر رہا ہے بلکہ ان کا تجزیہ بھی پیش کر رہا ہے۔عالمی سطح پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ بیانات کسی سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں یا محض وقتی اور جذباتی ردعمل کا نتیجہ۔اگر یہ حکمت عملی ہے تو اس کی سمت اور مقصد کیا ہے؟ اور اگر یہ بے ساختہ ردعمل ہے تو اس کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟ یہ سوالات ابھی تک تشنہ جواب ہیں۔
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ آیا اس طرز بیان سے کوئی مثبت پیش رفت ممکن ہے یا نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے تنازعات کو حل کرنے کے لیے مستقل مزاجی، تحمل اور واضح حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔ محض دھمکیوں، سخت بیانات اور جذباتی ردعمل سے نہ تو مسائل حل ہوتے ہیں اور نہ ہی پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔آخرکار یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ موجودہ صورتحال میں صدر ٹرمپ کے بیانات خود ایک مسئلہ بن چکے ہیں۔ان کی گفتگو میں جو تضاد، سختی اور غیر یقینی پن نظر آتا ہے وہ نہ صرف ایران کے ساتھ تعلقات کو متاثر کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کے کردار پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔ ”ٹرمپ کی ٹرمپ سے باتیں ” دراصل اسی کیفیت کا اظہار ہے جہاں ایک رہنما اپنی ہی باتوں کے جال میں الجھتا دکھائی دیتا ہے۔
اگر اس صورتحال میں بہتری لانی ہے تو ضروری ہے کہ بیانات کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ دی جائے اور جذباتی ردعمل کے بجائے سنجیدہ، متوازن اور مستقل پالیسی اپنائی جائے۔ بصورت دیگر یہ مکالمہ جو اس وقت خود کلامی محسوس ہوتا ہے کسی بڑے بحران کی تمہید بھی بن سکتا ہے۔
artariq2018@gmail.com
03024080369

