خورشید ندیم
کیا عمران خان ایک کلٹ ہیں؟ اس سوال کے جواب کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ کلٹ کیا ہوتا ہے؟میں اس موضوع پر پہلے بھی لکھ چکا۔ شاید میں نے ہی پہلی بار شخصیت پرستی پر مبنی اس طرزِ عمل کو اس اصطلاح سے تعبیر کیا تھا۔ یہ بات خلافِ واقعہ ہو تو بھی‘ یہ واقعہ ہے کہ میں نے اس موضوع پر کئی بار قلم اٹھایا۔ اس کے باوصف خیال ہوتا ہے کہ اس پر مزید لکھا جائے۔ اس کا ایک سبب تذکیر ہے۔ بھول جانا انسان کی عادت ہے‘ اس لیے لازم ہے کہ یاد دہانی کرائی جاتی رہے۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ ابھی ایک گروہ کو تعلیم کی مزید ضرورت ہے۔ اسے جب اس کا مصداق ٹھیرایا جاتا ہے تو وہ ردعمل میں ناراض ہوتا ا ور اپنی طرف اس نسبت کو رد کرتا ہے۔ بعض غصے کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اس کیفیت میں وہ جو کچھ کہتے ہیں‘ وہ بالواسطہ اس کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ ایک کلٹ ہیں لیکن اس کا شعور نہیں رکھتے۔
کلٹ مذہبی پس منظر میں پیدا ہونیوالی ایک اصطلاح ہے۔ ہر مذہب میں کچھ لوگ اُسکے حقیقی نمائندہ ہوتے ہیں۔ انکی زبان سے مذہب کی تعلیمات واحکام جاری ہوتے ہیں۔ انکے فرامین اور طرزِ عمل ہی سے مذہب کا ڈھانچہ مرتب ہوتا ہے۔ وہی معیارِ حق ہوتے ہیں۔ وہ جہاں کھڑے ہو جائیں‘حق بھی وہاں قائم ہو جاتا ہے۔ وہ موجود ہوں تو مذہب کے باب میں فرقان ہوتے ہیں۔ اس کا بدیہی نتیجہ ہے کہ جو ان کے ساتھ ہوتا ہے وہ حق پر اور جو ان کے خلاف ہو‘ وہ باطل پر ہوتا ہے۔ ان کی موجودگی میں غیر جانبدار نہیں رہا جا سکتا۔ جو ایسا کرتا ہے وہ منافق کہلاتا ہے اور اس کا انجام انکار کرنے والوں سے بھی بدتر ہوتا ہے۔ اسلام میں یہ حیثیت صرف اور صرف سیدنا محمدﷺ کو حاصل ہے۔ اسلام کے مصادر میں اس بات کو بغیرکسی ابہام کے بیان کیا گیا ہے اور ان کے اصل مخاطبین کو انہی تین گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ معاملہ اگر رسولوں کا ہو جو انبیاء میں بھی ایک خاص مقام رکھتے ہیں تو ان کے مخاطین پر اللہ تعالیٰ کے طرف سے اتمامِ حجت کی جاتی اور ان کے مخالفین کو عذاب کی وعید سنائی جاتی ہے۔ اتمامِ حجت کا مطلب ہے حق اس طرح واضح ہو جائے کہ اس کے انکار کا عقلی واخلاقی جواز باقی نہ رہے۔
مرورِ زمانہ کیساتھ‘ جب مذہب کی حقیقی نمائندہ ہستی سے زمانی بُعد پیدا ہو جاتا ہے تو اسی روایت کے اندر‘ بعض ایسی شخصیات نمودار ہوتی ہیں جنہیں کسی سبب سے یہ حیثیت حاصل ہو جاتی ہے کہ لوگ انہیں مذہب کے حقیقی نمائندے کا قائم مقام سمجھنے لگتے ہیں۔ ان سے پھر وہ اوصاف اور خصوصیات منسوب کر دی جاتی ہیں جو مذہب کی اصل نمائندہ ہستی کیلئے خاص ہوتی ہیں۔ مثال کے طور نبی یا رسول کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ خدا سے براہِ راست ہدایت پاتا ہے۔ اب ایک غیر نمائندہ شخصیت کے بارے میں بھی مان لیا جاتا ہے کہ اسے خدا سے براہِ راست ہدایت ملتی ہے۔ یا یہ کہ وہ بھی اب حق وباطل کیلئے فرقان اور پیمانہ ہے۔ آپ اس کیساتھ ہیں تو حق پر ہیں‘ مخالف ہیں تو لاریب باطل کے طرفدار ہیں۔ اسکے مخاطبین بھی اتمامِ حجت ہونے کے بعد‘ اگر اس شخصیت کا ساتھ نہ دیں تو وہ بھی آخرت اور دنیا میں عذاب کے مستحق ہو جاتے ہیں۔ یہ بات‘ کبھی دعوے کیساتھ مانی جاتی ہے اور کبھی زبانِ حال سے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی ہونے کا دعویٰ تو نہیں کیا جاتا لیکن عملاً اسے یہی حیثیت دے دی جاتی ہے۔ یہ کام اکثر لاشعوری سطح پر ہوتا ہے۔ اس میں یقین اتنا مستحکم ہو جاتا ہے کہ توجہ دلانے کے باوجود‘ لوگ مان کر نہیں دیتے۔اس بات کو ہم ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ مسلمانوں میں تصوف کی جو روایت پروان چڑھی‘ اس میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے اس بات کو مانا کہ نبیﷺ کے بعد بھی ایسی ہستیاں ہوتی ہیں جو خدا سے براہِ راست ہدایت پاتی ہیں۔ وہ اسے نبی نہیں کہتے لیکن ان میں نبی کی خصوصیات کو مان لیتے ہیں۔ شاہ اسماعیل شہید‘ جنہیں برصغیر میں وہابیوں کا امام مانا جاتا ہے‘ اپنی کتاب ‘عبقات‘ میں ایسی ہستی کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اور حق جہاں یہ ہستی گھومتی ہے‘ اس کے ساتھ ہی گھومتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہستی ملا اعلیٰ کے ساتھ شامل اور معصوم ہوتی ہے۔ چنانچہ حق وہی قرار پاتا ہے جو اس کے سینے میں نمایاں ہوتا ہے۔ حق اس ہستی کے تابع ہوتا ہے‘ وہ حق کے تابع نہیں ہوتی‘‘۔ (عبقہ 11)۔ ان ہستیوں کے بارے میں یہ بھی لکھا کہ یہ اپنے علوم وہیں سے پاتے ہیں جہاں سے فرشتے‘ اور یہ کسی کے مقلد نہیں ہوتے۔
کیا عمران خان صاحب کو بھی یہی حیثیت دے دی گئی ہے؟ اگر یہ کہا جائے کہ انکے حمایت کرنیوالے اہلِ حق اور انکے مخالفین اہلِ باطل ہیں۔ وہ جو مؤقف اختیار کریں‘ وہی حق ہے۔ جو ا نکے بارے میں غیر جانبدار یا نیوٹرل ہے وہ جانور یا منافق ہے۔ اور یہ کہ ا ن کے مخالفین پر اتمامِ حجت ہو چکا اور انکار کے بعد وہ آخرت کے عذاب کے مستحق ہو گئے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ان کو وہ حیثیت دے دی جو مامور من اللہ ہستیوں کیلئے خاص ہے۔ اس کیلئے زبان سے دعویٰ کیا جائے یاصرف زبانِ حال سے مانا جائے‘ دونوں کا نتیجہ ایک ہی ہے۔ اسی کو کلٹ کہتے ہیں۔ میں اس کے بے شمار شواہد پیش کر سکتا ہوں کہ عمران خان صاحب کو لوگ یہی حیثیت دینے لگے ہیں۔ آج ہی میں فیس بک پر ٹی وی ڈراموں کے ایک اداکار خالد انعم صاحب کا پیج دیکھ رہا تھا۔ وہ خان صاحب کے زبردست حامی ہیں۔ انہوں نے سیدنا حسینؓ کا ایک قول لکھا: ‘اگر حق کو پہچان نہیں سکتے تو باطل کے تیروں پر نظر رکھو۔ جہاں وہ لگ رہے ہیں وہی حق ہے‘۔ اس کا سیاق وسباق واضح ہے۔
کلٹ ضرورت سے بھی بنائے جاتے ہیں۔ پروپیگنڈا سے ایک فرد کی شخصیت تراشی جاتی اور اسے دوسروں سے ممتاز دکھایا جاتا ہے۔ اسی طرح عمران خان صاحب کی شخصیت کو تراشا گیا۔ جنہوں نے یہ منصوبہ بنایا‘ پوری قوم ان سے واقف ہے۔ ان کی زندگی کے واقعات کو اس طرح پیش کیا گیا جیسے انسانی تاریخ میں یہ سب کچھ پہلی بار ہو رہا ہے۔ یہاں بے شمار لوگوں نے ذاتی وسائل سے ہسپتال بنائے۔ خان صاحب نے بنایا تو اسے تاریخ کا منفرد واقعہ بنا کر پیش کیا گیا۔ اَن گنت خواتین وحضرات نے تعلیمی ادارے بنائے لیکن نئی نسل کو بتایا گیا کہ نمل یونیورسٹی جیسا ادارہ کبھی نہیں بنا۔ یہاں جہانگیر خان جیسے کھلاڑی پیدا ہوئے جنہیں صدی کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شامل کیا گیا۔ قوم کو مگر یہ باور کرایا گیا کہ کرکٹ ورلڈکپ سے بڑا کارنامہ کسی نے سرانجام نہیں دیا۔ یہاں سید مودودی جیسے مفکر پیدا ہوئے جنہوں نے کروڑوں انسانوں کے افکار کو بدل ڈالا۔ ذوالفقار علی بھٹو جیسے راہنما اٹھے جنہوں نے نئی سوچ دی۔ نوجوانوں کو مگر بتایا گیا کہ یہ کارنامہ خان صاحب نے پہلی مرتبہ انجام دیا ہے۔ یہ الگ بات کہ انہوں نے جو شعوردیا اسکے مظاہر دیکھ کر شرفا کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ پھر جمہوریت کیلئے لوگوں نے ایسا ایسا ریاستی جبر سہا کہ ان کے ذکر سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہاں بتایا گیا کہ ایسا ظلم جو خان صاحب پر ہوا‘ تاریخ میں نہیں ہوا۔ اسی طرح کلٹ تراشا گیا جسے لوگوں نے کم علمی کے باعث یا غیر شعوری طور پر سچ مان لیا۔ کلٹ کے ماننے والوں میں کسی دلیل کا گزر نہیں ہوتا۔ آج جو خان صاحب کی مخالفت میں لب کھولے‘ چاہے برسوں تعریف میں رطب اللسان رہا ہو‘ اسے گھر پہنچا دیا جاتا ہے۔ اس کی دہائی دینے والے بہت ملیں گے۔ سوشل میڈیا پر بیٹھے‘ کلٹ نفسیات کی آبیاری کرتے ہیں۔ کلٹ کو ماننے والے صرف انہی کو سنتے اور انکے جھوٹ کو سچ سمجھتے ہیں۔
سیاست میں مکالمے کی ایک ہی صورت ہے۔ یہ مانا جائے کہ نواز شریف‘ آصف زرداری‘ عمران خان‘ یہ صاحبان اقتدار کے کھیل کے کھلاڑی ہیں۔ یہ ممکن ہے کوئی کسی کی نظر میں دوسروں سے بہتر ہو۔ ان میں لیکن مامور من اللہ کوئی نہیں کہ اقتدار کے اس کھیل کو حق وباطل کا معرکہ مان کر اسے فرقان قرار دیا جائے۔
Load/Hide Comments

