مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو

خالد مسعود خان
صوبے میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے مؤثر امن و امان قائم کرنے کی دعویدار حکومتِ پنجاب نے دفعہ 144 کے تحت رحیم یار خان اور راجن پور میں کچے کے علاقے اور اس سے متصل نشاندہی کردہ حساس علاقوں میں سڑکوں اور پولیس چیک پوسٹوں کے قریب گنے کی کاشت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس حکمنامے کا مقصد ان علاقوں میں کچے کے ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ افراد کی نقل و حرکت کو محدود کرنا اور ان کو گنے کی فصل میں چھپنے اور کمین گاہیں بنانے سے روکنا ہے۔ اس حکمنامے کے مطابق اونچی فصلیں جرائم پیشہ افراد کیلئے چھپنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔ ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی اور قلع قمع کیلئے حکومت کے اس مؤثر طریقہ کار اور فوری ایکشن پر جہاں ہم ایسے نابغہ روزگار منصوبہ سازوں کی دوراندیشی کے معترف ہیں وہیں ہمیں اس سے ملتا جلتا بلکہ بعینہٖ ویسا ایک لطیفہ نما قصہ یاد آ گیا۔
مسئلہ یہ ہے کہ یادداشت کی تمام تر کمزوری‘ نسیان اور بھول جانے کی عادت کے باوجود اس فقیر کو ایسے موقعوں پر کوئی لطیفہ‘ کوئی کہانی‘ کوئی قصہ یا کوئی واقعہ اللہ جانے کیسے یاد آ جاتا ہے۔ کاش اس عاجز کا دماغ دیگر مواقع پر بھی اسی طرح حاضر دماغی‘ چستی اور چاق و چوبند ہونے کا مظاہرہ کرتا رہے تو کیا ہی بات ہے۔
قصہ یوں ہے کہ کسی صاحب کی بیوی کا کسی سے آنکھ مٹکا چل رہا تھا۔ عاشق کی دیدہ دلیری اور محبوبہ کی بے خوفی کا یہ عالم تھا کہ کہیں لُک چھپ کر ملنے کے بجائے محبوبہ کو اس کے گھر میں آ کر ملنا شروع کر دیا۔ قارئین ! اپ کو تو علم ہی ہوگا اور اگر علم نہیں بھی تو میں بتا دیتا ہوں کہ اس قسم کے معاملات میں سب سے لا علم شخص شوہر نامدار ہوتا ہے جبکہ ارد گرد کے لوگوں کو یہ سب کچھ دکھائی دے رہا ہوتا ہے اور انہیں ایسی باتوں کا علم بھی ہوتا ہے۔ تاہم گلی محلے میں ایسے معاملات کو موضوع گفتگو بنا کر چسکا لینے والے ہمسایے جونہی لاعلم شوہر کو آتا دیکھتے ہیں موضوع گفتگو تبدیل کر لیتے ہیں۔ محبوبہ اور اس کا آشنا بھی اپنی احتیاط کا تمام تر زور اس بات پر لگاتے ہیں کہ بس گھر والوں کو ان تعلقات کا علم نہ ہو اور اس میں وہ کچھ عرصہ تک کامیاب بھی رہتے ہیں تاوقتیکہ کوئی منہ پھٹ یا شر پسند ہمسایہ بالاخر یہ قصہ شوہر کو بتا دیتا ہے۔ یہاں بھی معاملہ ایسا ہی تھا‘ کسی نے شوہر کو سارا قصہ سنا دیا۔اسے جب معلوم ہوا کہ فلاں شخص اس کی عدم موجودگی میں اس کے گھر آتا ہے تو اس نے عین وقت پر چھاپہ مار کر اس کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کا منصوبہ بنایا۔ مقررہ وقت پر آشنا صاحب بھی تشریف لے آئے اور تھوڑی ہی دیر کے بعد ان کی توقع کے خلاف شوہر بھی گھر پہنچ گیا۔ کیا دیکھتا ہے کہ اس کی بیوی آشنا کے ساتھ ڈرائنگ روم کے صوفے پر بیٹھی راز و نیاز میں مصروف ہے۔ شوہر کو دیکھ کر آشنا تو خاموشی سے نکل گیا جبکہ دبنگ ٹائپ بیوی نے الٹا شوہر پر چڑھائی کر دی کہ اسے اس طرح بتائے بغیر اچانک نہیں آنا چاہیے تھا۔ ٹھنڈے مزاج کے شوہر میں غصہ اور غیرت کافی حد تک مفقود تھی سو اس نے جھگڑا کرنے کے بجائے ازخود یہ تصور کر لیا کہ اس چھاپے کے بعد اب دوبارہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن چار چھ دن کے بعد اسے اطلاع ملی کہ ڈھیٹ عاشق نے اس کی غیر موجودگی میں دوبارہ اس کے گھر آنا شروع کر دیا ہے۔ معاملہ کیونکہ کھل چکا تھا اس لیے محلے کے ایک دو بزرگوں نے اسے اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کن اور سخت قدم اٹھانے کا مشورہ دیا۔ اگلے روز اس نے دوبارہ ریڈ کیا تو صورتحال جوں کی توں تھی۔ ایک بار پکڑے جانے اور بغیر کسی بازپرس آسانی سے نکل جانے کے بعد عاشق کا حوصلہ اور اعتماد پہلے کی نسبت بڑھ چکا تھا؛چنانچہ اگلی بار اس نے صوفے سے اٹھ کر اپنی محبوبہ کے شوہر سے باقاعدہ ہاتھ ملایا‘ سلام دعا لی اور بڑی سہولت سے کھسک گیا۔ شوہر نے اپنی تمام تر بے غیرتی کے باوجود محلے کے بزرگوں کے کہنے سننے اور اکسانے کے بعد اس سلسلے میں بہرحال ایک فیصلہ کن قدم اٹھانے کا پختہ ارادہ کر رکھا تھا جو اس نے اٹھا لیا۔ اگلے روز ایک بزرگ نے اسے روک کر پوچھا کہ کیا تم نے اس بار کوئی ایکشن لیا ؟ وہ کہنے لگا: چاچا جی ! میں نے تو سارا قصہ جڑ سے مکا دیا ہے اور اس سارے معاملے کو سرے سے ہی ختم کر دیا ہے۔ اب نہ ہوگا بانس نہ بجے گی بانسری۔ بزرگ نے گھبرا کر پوچھا: کہیں تم نے اپنی بیوی کوقتل تو نہیں کر دیا؟ وہ کہنے لگا: میں نے اس سے زیادہ پکا اور محفوظ بندوبست کیا ہے۔ میں نے کل شام وہ صوفہ ہی بیچ دیا ہے جس پر بیٹھ کر یہ حرام کاریاں کرتے تھے۔ اب دیکھتا ہوں یہ بدذات کس پر بیٹھ کر رنگ رلیاں مناتے ہیں ؟
کچے کے ڈاکو اور جرائم پیشہ لوگوں کی سرگرمیاں روکنے کیلئے حکومتِ پنجاب کی جانب سے دفعہ 144 کے تحت کچے سے متصل سڑکوں اور پولیس چوکیوں کے اردگرد گنا کاشت کرنے پر پابندی سے مسئلہ حل کرنے سے مجھے صوفہ اٹھوا کر بیوی کے آشنا کا مکو ٹھپنے والا قصہ یاد آ گیا۔ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے ڈاکوؤں کی سرکوبی‘ کچے کے علاقے کو ڈاکوؤں سے پاک کرنا‘ لوگوں کو پُرامن ماحول فراہم کرنا‘ اس علاقے کے کاشتکاروں کو ڈاکوؤں کے خوف سے آزاد کراتے ہوئے آزادانہ نقل و حرکت اور کاشتکاری کی آسانی فراہم کرنے کے بجائے سرکار گنے کی کاشت پر پابندی لگا کر اپنا فرض پورا کر رہی ہے۔ اس ملک کا کاشتکار پہلے ہی مرا ہوا ہے‘ اسے کسی نقد آور فصل سے روکنا اس پر مزید ظلم و زیادتی کے مترادف ہے۔ لے دے کر اب چند فصلیں ہیں جہاں سے کاشتکار کو دو چار پیسے مل رہے ہیں بصورت دیگر کاشتکار اور ہماری زراعت کا مجموعی طور پر ایسا برا حال ہے کہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ سال گندم نے کمر توڑ کے رکھ دی‘ رہی سہی کسر کپاس نے نکال دی۔ یہی حال دیگر فصلات کا ہے۔ سبزیاں کسی حد تک چھوٹے کاشتکار کیلئے ذریعۂ آمدنی ہوا کرتی تھیں لیکن آج کل سبزیاں ٹکے ٹوکری ہیں اور لاگت بھی پوری نہیں ہو رہی۔ پیاز‘ آلو‘ بھنڈی‘ بینگن‘ کدو‘ گوبھی‘ مٹر‘ کھیرے‘ مرچیں اور ٹماٹر‘ غرض جس سبزی کا نام لیں گزشتہ کئی سال کی نسبت ریکارڈ کم قیمت پر فروخت ہو رہی ہے۔ حقیقت میں سبزیاں اپنی لاگت سے بھی کہیں کم قیمت پر فروخت ہو رہی ہیں۔ کسی سبزی کو استثنا نہیں‘ سب کا برا حال ہے۔ زیادہ تفصیلات میں جانے کیلئے کالم کا دامن تنگ ہے۔ فی الوقت صرف ٹماٹر کی فصل کا تجزیہ پیش کروں تو اس کی فصل پر فی ایکڑ اٹھنے والے اخراجات اور آمدنی کا جدول حسبِ ذیل ہے۔ یہ میر پور خاص کے ایک کاشتکار کی تفصیل ہے باقی سب جگہ بھی انیس بیس کے ساتھ یہی حال ہے۔
لیزر لیولنگ: 10 ہزار روپے۔ خرچہ کاشت ؍بجائی: 22 ہزار روپے۔ گرین یارڈ مینیور: 19 ہزار روپے۔ بیج: 1156 روپے فی پیکٹ‘ (3 پیک) کل قیمت: 13 ہزار 770 روپے۔ نرسری ٹرے: (35 عدد) فی ٹرے: 2530 روپے۔ گرین نیٹ: 25ہزار روپے۔ ڈی اے پی: 15ہزار روپے۔ زرخیز کھاد: (ڈیڑھ بیگ) :15 ہزار 825 روپے۔ کین گوارا کھاد: 15 ہزار 800 روپے۔ چنائی: 25ہزار روپے۔ پیسٹی سائیڈ سپرے: 39 ہزار روپے۔ خرچہ ٹرانسپورٹ: 1 لاکھ 19 ہزار روپے۔ یہ سارا خرچہ: 3 لاکھ 21 ہزار 925 روپے فی ایکڑ بنتا ہے۔
پیداوار ؍ آمدن: کل پیداوار 20 ہزار 400 کلو گرام۔ کل شاپر: 1700 ۔فی شاپر وزن :12 کلوگرام۔ اوسط ریٹ فی شاپر: 110 روپے۔ کل آمدنی: 1 لاکھ87 ہزار روپے۔ یعنی کل اخراجات 3 لاکھ 21 ہزار 925 روپے فی ایکڑ جبکہ کل آمدن 1 لاکھ87ہزار روپے ہوئی۔ اس طرح ٹماٹر کے کاشتکار کا خالص نقصان فی ایکڑ 1 لاکھ34 ہزار 925 روپے بنتا ہے۔
ڈاکوؤں کے قلع قمع کیلئے گنے کی کاشت پر پابندی سے ایک شعر یاد آگیا۔
مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو
کہ نا حق خون پروانے کا ہو گا

اپنا تبصرہ بھیجیں