افتخار احمد سندھو
ہمارے ملک کے غریب عوام کو چند سال قبل آئی پی پیز کی لوٹ مار کی دردناک کہانی کے ساتھ کپیسٹی چارجز کے بارے میں پہلی بارمعلوم ہوا تھا لیکن اس کے بعد پتا چلا کہ انہیں تو مقتدر طبقات پچھلے 78سال سے کپیسٹی چارجز کے نام پر دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں‘ اور اتنا لوٹ رہے ہیں جتنا لوٹا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ تین سالوں کے دوران بجلی 155 فیصد مہنگی ہو چکی ہے اور آئی پی پیز کو کپیسٹی چارجز کی مد میں مسلسل پیمنٹس اس کی بڑی وجہ ہے۔ بجلی مہنگی ہونے کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کے بل گھروں کے کرایوں سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں۔ بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی نے عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے۔ پاور سیکٹر میں درآمدی فیول سے چلنے والے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) سے طویل مدتی معاہدے قومی خزانے اور عوام پر بھاری بوجھ بن چکے ہیں۔ پاکستان ایک طرف ایک ارب ڈالر کی قسط کیلئے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ماننے پر مجبور ہے تو دوسری جانب آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدے ہر سال قوم کے اربوں ڈالر نگل رہے ہیں۔ صارفین سے وصول کیے گئے بجلی کے بلوں میں سے بھاری رقم کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں نکل جاتی ہے۔ وزارت توانائی کی اپنی دستاویز کے مطابق 2013ء سے 2024ء کے دوران 10 برس میں آئی پی پیز کو آٹھ ہزار 344ارب روپے کپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔ کپیسٹی چارجز کی مد میں پچھلے صرف دو سال میں دو ٹریلین (2000 ارب) روپے ادا کیے گئے ہیں۔ صارفین سے اس بجلی کے پیسے بٹورے جاتے ہیں جو انہوں نے کبھی استعمال ہی نہیں کی۔ لیکن ملک کی محبت میں یہ بوجھ برداشت کیا جا رہا ہے۔ لیکن کتنی دیر ایسا ممکن ہو گا؟ افتخار عارف کے بقول:
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
دیکھنا یہ ہے کہ یہ کپیسٹی چارجز کیا ہیں؟ بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان نہ ختم ہونے والا فرق پاکستان میں توانائی کے مسائل کی جڑ ہے‘ جس کی وجہ سے حکومتوں نے فیصلہ کیا کہ ملک میں مزید بجلی پلانٹس کی ضرورت ہے۔ اس لیے انہوں نے ملک بھر میں بجلی کے بہت سے نئے پلانٹس لگائے جن میں سے بہت سے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) تھے۔ ان پاور پلانٹس کیلئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی اور ان کو لگانے والوں کے ساتھ معاہدوں میں طے پایا کہ کپیسٹی پیمنٹس زمین کی خریداری‘ ڈیزائن‘ تنصیب‘ ٹیکس‘ انشورنس‘ انتظامیہ‘ قرض خدمات اور ایکویٹی پر واپسی کے اخراجات کی قیمت پر مبنی ہوں گی۔ اب اس سارے عمل کا زبردست (یا پریشان کن) حصہ یہ ہے کہ معاہدوں کو ان چیزوں کے خلاف طے کیا جاتا ہے جو اتار چڑھاؤ کا شکار ہوتی ہیں‘ بشمول شرح تبادلہ اور شرح سود۔ لیکن جیسا کہ پاکستان میں ہوتا آیا ہے‘ حکومتی فیصلہ سازوں نے ضرورت سے زیادہ دماغ چلایا اور فائدے کو نقصان میں بدل دیا۔ آئیڈیا تو یہ تھا کہ بجلی کی ضرورت سے زیادہ فراہمی ہونی چاہیے لیکن فیصلہ ساز یہ بھول گئے کہ اس زائد بجلی کی ترسیل کے لیے گنجائش بھی اتنی ہی ہونی چاہیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اب پاکستان میں ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تو ہے لیکن اس بجلی کو صارفین تک پہنچانے کا کوئی طریقہ نہیں‘ اس لیے پلانٹس کیلئے کپیسٹی چارجز عائد ہیں اور حکومت کو انہیں ادا کرنا پڑتا ہے۔ عوام آئی پی پیز کے ان ہاتھیوں کو مسلسل پال رہے ہیں۔ حکومت آئی پی پیز ماہانہ کپیسٹی چارجز چھوڑ دیں تو بجلی کے بل بڑی حد تک کم ہو جائیں گے۔ مہنگے بجلی بلوں نے عوام کے ساتھ ملکی معیشت اور صنعت کو تباہ کر دیا ہے۔ آسان الفاظ میں سمجھیں تو اگر ایک آئی پی پیز کے پاس 100 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے اور وہ صرف 60 میگاواٹ پیدا کرتا ہے‘ تب بھی اسے پورے 100 میگاواٹ کی ادائیگی ہو گی۔ کپیسٹی چارجز سے آئی پی پیز کے ساتھ حکمرانوں کے پیٹ بھی بھر رہے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے عوام پیدا ہی کپیسٹی چارجز ادا کرنے کیلئے ہوئے ہیں کیونکہ ان کی مہینے بھر کی کمائی بجلی بلوں پرصرف ہو جاتی ہے۔ ساغر صدیقی بھی اسی بات کا رونا روتا رہا:
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
اور تو اور یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایران میں جنگی حالات کے خاتمے تک پاکستان کو قطر سے ایل این جی نہیں ملے گی۔ قطر نے پاکستان کو گیس کی عدم سپلائی کے بارے میں پیشگی آگاہ کر دیا تھا۔ مارچ کیلئے قطر سے آٹھ ایل این جی کارگو آنے تھے لیکن صرف دو ہی آئے۔ جس کی وجہ سے ملک میں ایل این جی کی لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑی۔ جنگ کی وجہ سے قطر پاکستان کو ایل این جی نہیں دے رہا مگر 2013ء سے2018ء تک نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کی حکومت کی طرف سے کیے گئے معاہدوں کے باعث پاکستان کو ایل این جی ٹرمینلز سے گیس کی سپلائی نہ ہو‘ تب بھی ایل این جی ٹرمینلز کو کپیسٹی چارجز کی ادائیگی کرنا پڑے گی۔ ہم تقریباً 423 کروڑ روپے روزانہ کپیسٹی چارجز کی مد میں قطر گیس کو ادائیگی کر رہے ہیں۔
بات یہ ہے کہ صرف آئی پی پیز اور ایل این جی ٹرمینلز والے ہی پاکستان کے غریب عوام سے کپیسٹی چارجز نہیں لے رہے‘ اس ملک کی اشرافیہ اور مقتدرہ میں شامل طبقات قیام پاکستان سے لے آج تک کپیسٹی چارجزوصول کر رہے ہیں۔ مقتدر طبقات میں شامل ہر طبقے نے اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کیا ہے اور ہنوزکر رہا ہے۔ سیاستدانوں اور عوام کے منتخب نمائندوں کا کام قانون سازی کے ذریعے ملکی اور عوامی مسائل حل کرنا ہے اور اسی عوامی اور قومی خدمت کے عوض وہ ماہانہ لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات وصول کرتے ہیں‘ اسمبلی کا اجلاس بیشک دو دو‘ تین تین ماہ نہ ہو لیکن وہ تنخواہ اور مراعات مسلسل وصول کر رہے ہیں۔ یہ کپیسٹی چارجز نہیں تو کیا ہے؟ ہمارے تاجر‘ بزنس مین اور صنعتکار بھی چیزوں کو انتہائی مہنگے داموں فروخت کر کے عوام سے کپیسٹی چارجز وصول کر رہے ہیں۔ ہمارا وہ ادارے جن کی اولین ذمہ داری عوام کی رہنمائی ہے‘ وہ بھی عوام کی رہنمائی کرنے کے بجائے قومی خزانے سے کپیسٹی چارجز وصول کر رہے ہیں۔ اور عوامی مسائل اجاگرکرنے کے بجائے حکومتوں کے گن گاتے ہیں۔نظام عدل کا کام عوام کو عدل وانصاف فراہم کرنا ہے لیکن ملک عزیز میں عدل و انصاف کی کیا حالت ہے یہ ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کی سالانہ رپورٹ سے واضح ہو جاتا ہے جس کے مطابق پاکستان دنیا میں 143ممالک میں 130 ویں نمبر پر ہے۔ ہمارے بیورو کریٹس جو پبلک سرونٹ یعنی عوامی خادم ہیں‘ وہ مخدوم بنے ہوئے ہیں اور جی بھر کر قومی خزانے کو لوٹ رہے ہیں۔ ہمارے نام نہاد مذہبی رہنما بھی عطیات کے نام پر عوام سے کپیسٹی چارجز بٹور رہے ہیں۔ اور عوام بے چار ے ہر طرح کے کپیسٹی چارجزادا کرنے کے باوجود اندھیرے میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
بقول علامہ اقبال:
ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
Load/Hide Comments

