رومانوی اداکار سنتوش کمار کو مداحوں سے بچھڑے 44 برس گزر گئے

پاکستانی فلم انڈسٹری کے سنہری دور کا ذکر ہو اور سنتوش کمار کا نام نہ آئے، ایسا ممکن نہیں۔ رومانوی کرداروں کو نئی پہچان دینے والے، اپنی باوقار شخصیت اور منفرد اداکاری سے لاکھوں دلوں پر راج کرنے والے سنتوش کمار کو دنیا سے رخصت ہوئے 44 برس بیت گئے، لیکن ان کا فن آج بھی زندہ ہے۔

25 دسمبر 1925 کو لاہور میں پیدا ہونے والے سنتوش کمار کا اصل نام سید موسیٰ رضا تھا۔ انہوں نے فلمی سفر کا آغاز پنجابی فلم ’’بیلی‘‘ سے کیا، تاہم فلم ’’وعدہ‘‘ نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچادیا۔ اسی فلم پر انہیں پاکستان کی تاریخ کا پہلا بہترین اداکار کا نگار ایوارڈ بھی ملا۔

سنتوش کمار نے اپنے کیریئر میں نوے سے زائد فلموں میں یادگار کردار ادا کیے۔ ’گھونگھٹ‘، ’رشتہ‘، ’دامن‘، ’سرفروش‘ اور ’قسمت‘ جیسی فلمیں آج بھی ان کے فن کی گواہ ہیں۔ انہوں نے صبیحہ خانم کے ساتھ درجنوں کامیاب فلموں میں کام کیا اور بعد ازاں انہیں اپنا شریکِ حیات بھی بنا لیا۔

11 جون 1982 کو سنتوش کمار اس دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کی اداکاری، مکالمے اور لازوال کردار آج بھی پاکستانی سینما کے سنہرے دور کی پہچان سمجھے جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں