امریکی پراسیکیوٹر نے بتایا ہے کہ ہفتے کو دو افراد پر فیفا فٹ بال ورلڈ کپ کے دوران انگلینڈ کی ٹیم کی 18 ہزار ڈالر مالیت کی کٹ اور سامان چوری کرنے کی فرد جرم عائد کی گئی۔
جیکسن کاؤنٹی کی پراسیکیوٹر ملیسا جانسن کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق مصطفیٰ سالک اور عرفان کمال کو چوری کا سامان اپنے پاس رکھنے کے الزام کا سامنا ہے۔
ریاست مسوری کے قانون کے تحت اس جرم کی سزا سات سال تک قید ہے۔
یہ سامان اس وقت گاڑیوں سے چرایا گیا جب اسے فلوریڈا میں انگلینڈ کے ٹریننگ کیمپ سے کنساس سٹی میں ان کے ورلڈ کپ بیس کیمپ منتقل کیا جا رہا تھا۔
جانسن نے کہا ’جیکسن کاؤنٹی ورلڈ کپ کے مہمانوں کو نشانہ بنانے والی کسی بھی مجرمانہ سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گی، جن میں یہاں مقابلے کے لیے آنے والی بین الاقوامی ٹیمیں بھی شامل ہیں۔
’ہم کنساس سٹی پولیس ڈپارٹمنٹ اور اپنے آن کال وکلا کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے واقعے کی تیزی سے تفتیش کی اور فوری طور پر فرد جرم عائد کی۔‘
کنساس سٹی کے میئر کوئنٹن لوکاس نے پولیس اور پراسیکیوٹر کے دفتر کی تعریف کی ’جنہوں نے کئی ریاستوں میں پھیلی اس تفتیش کو حل کیا اور جرائم کا شکار ہونے والوں کو راستے میں چوری ہونے والا سامان واپس دلانے میں مدد کی۔‘
اس سے قبل انگلینڈ کے ریزرو گول کیپر ڈین ہینڈرسن نے کہا تھا کہ انہیں اپنے جوتے واپس مل گئے ہیں، جب کہ یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ زیادہ تر سامان برآمد کر لیا گیا ہے۔
کرسٹل پیلس کے گول کیپر نے سوپ سوکر ولیج میں انگلینڈ کے پہلے ٹریننگ سیشن کے بعد کہا ’مجھے وہ واپس مل گئے ہیں، اس لیے سب ٹھیک ہے۔ میرا خیال ہے کہ انہیں سب کچھ واپس مل گیا ہے، اس لیے سب ٹھیک ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ڈیفنڈر ڈین برن اس واقعے کے حوالے سے پرسکون رہے۔
انہوں نے کہا ’ظاہر ہے اس کا تعلق پولیس سے تھا۔
’اس لیے مجھے نہیں معلوم کہ لوگ اس بارے میں کتنا جانتے ہیں۔ ہم اس بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے، لیکن مجھے اپنی ساری کٹ اور تمام جوتے مل گئے ہیں۔‘
تھامس ٹوخل کی انگلینڈ ٹیم نے، جو ورلڈ کپ جیتنے کے لیے فیورٹ سمجھی جاتی ہے، ہفتے کو مداحوں کی بڑی تعداد کے سامنے ہلکا پھلکا ٹریننگ سیشن کیا۔
وہ بدھ کو کروشیا کے خلاف اپنی ورلڈ کپ مہم کا آغاز کریں گے، جس کے بعد گروپ ایل میں ان کے مزید میچ گھانا اور پانامہ کے خلاف ہوں گے۔

