بھاگ (نامہ نگار) مظلوم عوامی تحریک پاکستان نے بلوچستان بھر کے صحافیوں، سوشل میڈیا ایکٹوسٹس، شاعروں اور مصنفین کی نمائندہ تنظیم بلوچستان میڈیا فورم کے دس نکاتی مطالبات کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافت ریاست اور معاشرے کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی ہے، اس لیے صحافیوں کو درپیش مسائل کا حل اور ان کے بنیادی و پیشہ ورانہ حقوق کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ یہ اعلان مظلوم عوامی تحریک پاکستان کے سربراہ صادق خان اچکزئی نے بلوچستان میڈیا فورم کے مرکزی صدر قیوم بلوچ کی قیادت میں فورم کے وفد سے اپنے مرکزی دفتر میں ملاقات کے دوران کیا۔ وفد میں بلوچستان میڈیا فورم کے مرکزی عہدیداران احمر ندیم، نور احمد راہی، ذیشان بلوچ اور عامر بلوچ شامل تھے، جبکہ مظلوم عوامی تحریک کے صوبائی صدر اسلم اچکزئی اور سیکرٹری اطلاعات، معروف اینکر و صحافی وطن یار خلجی بھی ملاقات میں موجود تھے۔ اس موقع پر بلوچستان میڈیا فورم کے مرکزی صدر قیوم بلوچ نے صادق خان اچکزئی کو فورم کے دس نکاتی مطالبات اور بلوچستان کے صحافیوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران مختلف مشکلات، دباؤ اور عدم تحفظ کا سامنا ہے، جبکہ ضلعی اور علاقائی صحافیوں کے مسائل بھی فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔صادق خان اچکزئی نے بلوچستان میڈیا فورم کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ صحافی معاشرے کے مسائل اور عوام کی آواز کو اجاگر کرنے میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنا، آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کو یقینی بنانا اور میڈیا سے وابستہ افراد کے جائز مطالبات تسلیم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظلوم عوامی تحریک پاکستان بلوچستان میڈیا فورم کے جائز مطالبات کی حمایت جاری رکھے گی اور صحافیوں کے حقوق کے لیے ہر ممکن آواز بلند کرے گی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں صحافت کو درپیش مسائل کو محض میڈیا کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں، بلکہ یہ عوام کے بنیادی حقِ اظہار اور معلومات تک رسائی کا معاملہ ہے۔حکومت کو چاہیے کہ بلوچستان میڈیا فورم کے دس نکاتی مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے ان کے حل کیلئے عملی اقدامات اٹھائے۔ملاقات میں دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ بلوچستان میں آزادیٔ صحافت، صحافیوں کے تحفظ اور میڈیا سے وابستہ تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے جائز حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد اور آواز بلند کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

