خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ جدوجہد کا اعلان کرتے ہوئے آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور شفاف انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کردیا۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں اور آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسمبلیاں چھوڑنے کا آپشن بھی موجود ہے، تاہم ہم پرامن اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور مذاکرات کے لیے بھی تیار ہیں۔ دوسری جانب گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر آئینی درخواستیں پشاور ہائیکورٹ نے 20 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی ہیں۔
پشاور ہائیکورٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے آئے ہیں کیونکہ ان کے بقول وفاقی حکومت نے غیر آئینی اقدام کرتے ہوئے صوبے کی منتخب حکومت ختم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ اس لیے آئے ہیں کہ صوبے کے چار کروڑ عوام کی منتخب حکومت ختم کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے نشستیں جیتیں، لیکن حکومت کسی اور کو دے دی گئی، ارکان اسمبلی کو نااہل کیا گیا اور انتخابی عمل پر بھی سنگین اعتراضات سامنے آئے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کسی ملک میں قیدی سے ملاقات پر پابندی نہیں ہونی چاہیے، بانی پی ٹی آئی کو معاہدے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور ماضی میں بھی نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے ساتھ ایسا ہی طرز عمل اختیار کیا گیا ان کے بقول آج مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومت میں بھی وہی کچھ ہو رہا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبر پختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کہاں ہیں، ان کے بارے میں بتایا جائے کیونکہ یہ ان کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی وزرا، ارکان اسمبلی اور کارکنوں کے غائب ہونے کے واقعات بھی تشویش ناک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ وقت خاموش بیٹھنے کا نہیں بلکہ عوام کے حقوق اور آئینی تحفظ کے لیے کھڑے ہونے کا ہے ہم کسی کو پتھر نہیں ماریں گے اور نہ ہی تشدد کا راستہ اختیار کریں گے بلکہ پرامن جدوجہد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مذاکرات کی بات کرتی ہے تو ہم بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں، پالیسی پارلیمنٹ میں بننی چاہیے اور تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے بتایا کہ مذاکرات کی پیشکش کے جواب میں اپنے مطالبات سامنے رکھ دیے ہیں، جن میں آئین کی بالادستی، متنازع ترامیم کی واپسی، پارلیمنٹ کو طاقت کا حقیقی سرچشمہ بنانا اور شفاف انتخابات کے لیے آزاد کمیشن کا قیام شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پارلیمنٹ کو فیصلہ سازی کا اصل مرکز نہیں بنایا جاتا، ملک کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطے جاری ہیں اور آل پارٹیز کانفرنس میں سب کو دعوت دی جائے گی۔
محمود خان اچکزئی نے خیبر پختونخوا کے قدرتی وسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معدنیات پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر وطن کے تحفظ اور عوام کے حقوق کے لیے سب کو متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا فیصلہ بھی ایک منٹ میں کر لیا گیا تھا، اس لیے قومی اہمیت کے معاملات میں آئینی اور جمہوری طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے کہا کہ جو لوگ خود کو آئین کا خالق کہتے ہیں، وہی آئین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ ان کے بقول خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرکے پورے صوبے پر دہشت گردی کا الزام عائد کیا جا رہا ہے، حالانکہ بلوچستان میں بھی طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، لیکن وہاں حالات بہتر ہونے کے بجائے پورا صوبہ بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایسے اقدامات سے مسائل حل ہو سکتے ہیں؟ اختر مینگل نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ کو اٹھایا گیا ہے جبکہ اسپیکر اور وزرا کے غائب ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے آنے والے افراد ایوانوں میں بیٹھے ہیں اور ایسا نظام زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔
اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک میں لاقانونیت عروج پر ہے اور حکمرانوں سے نظام نہیں چل رہا تو انہوں نے ایک صوبے پر قبضہ کر لیا ہے۔ ان کے بقول حکومتی وزرا بھی نظام کی ناکامی کا اعتراف کر چکے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مینڈیٹ چوری کرنے والے اعتراضات اور احتجاج کی آواز دبانا چاہتے ہیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے غربت میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی موجودہ صورت حال پر خاموش رہنا پاکستان سے محبت کے تقاضوں کے منافی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالات جیسے بھی ہوں، وہ اپنے مؤقف اور جدوجہد پر قائم رہیں گے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے والی درخواستیں 20 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہیں۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنی درخواست میں 11 اکتوبر 2026ء کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم کرنے کی استدعا کی ہے۔
بیرسٹر گوہر علی خان کے مطابق ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کے بعد ضرورت پڑنے پر معاملہ وفاقی آئینی عدالت میں بھی لے جایا جائے گا۔ ان کے مطابق آئینی عدالت میں براہ راست درخواست دائر کرنے کا راستہ بھی موجود ہے، تاہم پہلے ہائیکورٹ سے رجوع کرنا بہتر سمجھا گیا ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئین کی بالادستی، عوامی مینڈیٹ کے تحفظ، صوبائی حقوق اور جمہوری اداروں کی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

