وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ شدت اختیار کرگیا، البانیہ میں پانچ روز سے ہنگامے، 167 افراد گرفتار

تیرانا: یورپی ملک البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں وزیراعظم ایڈی راما کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان مسلسل پانچویں روز بھی شدید جھڑپیں ہوئیں۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پہلی مرتبہ ربڑ کی گولیاں چلائیں، جبکہ واٹر کینن، آنسو گیس اور مرچوں کے اسپرے کا بھی استعمال کیا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منگل سے جاری مظاہروں میں ہزاروں افراد شریک ہیں۔ مظاہرین یونیورسٹیوں کی صورت حال اور بھاری تعلیمی فیسوں پر احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم ایڈی راما سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ہفتے کو مظاہرین نے پولیس پر پتھر، دھاتی اشیا، آتش گیر بوتلیں اور آتش بازی کے آلات پھینکے۔ بعض مظاہرین نے گاڑیوں اور کوڑے دانوں کو آگ لگا کر سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کردیں۔ پولیس کی کارروائی کے دوران تیرانا کی سڑکیں آنسو گیس اور دھویں سے بھر گئیں۔

مظاہرین کی عارضی طبی امداد کیمپ چلانے والی نوجوان خاتون پاؤلا کے مطابق ربڑ کی گولیوں سے سر، آنکھوں اور ٹانگوں پر چوٹیں لگنے کے شبہے میں تین افراد کو طبی امداد دی گئی۔ البانیہ کے قانون کے تحت احتجاجی مظاہروں میں پولیس ربڑ کی گولیاں صرف انتہائی حالات میں استعمال کرسکتی ہے۔

وزارت صحت کے مطابق جھڑپوں کے دوران نو مظاہرین اور چار پولیس اہلکاروں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ طالب علم ریدی تاکو نے ربڑ کی گولیوں کے استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین میں 16 اور 17 سال کے کم عمر نوجوان بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب البانیہ کے پولیس سربراہ اسکندر ہیتا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ربڑ کی گولیاں محدود پیمانے پر استعمال کی گئیں اور کارروائی میں صرف منظور شدہ آلات استعمال کیے گئے۔ ان کے مطابق ہفتے بھر کے احتجاج کے دوران 167 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ 388 افراد کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کردی گئی۔ اختیارات سے تجاوز کے الزامات پر سات پولیس اہلکاروں کو معطل کرکے ان کے خلاف محکمانہ تحقیقات بھی شروع کی گئی ہیں۔

پولیس سربراہ نے مزید بتایا کہ پانچ روزہ احتجاج کے دوران، زیادہ تر تیرانا میں، 132 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ انہوں نے تشدد میں ملوث افراد سے غیرقانونی سرگرمیاں فوری روکنے کا مطالبہ کیا۔

مظاہروں کے آغاز میں بعض نوجوانوں نے ایک سوٹ کیس کو آگ لگا کر وزارت تعلیم کے احاطے میں پھینکا، جسے ملک چھوڑنے سے انکار کی علامتی کارروائی قرار دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں