ایران حوثیوں کو سعودی عرب پر حملوں کے لیے انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران یمن کی حوثی تنظیم انصار اللہ کو سعودی عرب پر حملوں کے لیے اہداف کی نشاندہی، خفیہ معلومات، فوجی تربیت اور جنگی حکمت عملی سے متعلق رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران حوثیوں کو ڈرونز، میزائلوں، ریڈار اور دیگر فوجی سازوسامان کی فراہمی میں بھی معاونت کر رہا ہے۔

اخبار نے سعودی عرب اور یمن میں حوثیوں کے مخالف اتحاد کی انٹیلی جنس سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار حوثی جنگجوؤں کے ساتھ اگلے محاذوں پر بھی موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی جدید فوجی کارروائیوں اور حکمت عملی سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں ایران کی جانب سے تربیت اور تکنیکی معاونت حاصل رہی ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران یمن کی حوثی تنظیم انصار اللہ کو سعودی عرب پر حملوں کے لیے اہداف کی نشاندہی، خفیہ معلومات، فوجی تربیت اور جنگی حکمت عملی سے متعلق رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران حوثیوں کو ڈرونز، میزائلوں، ریڈار اور دیگر فوجی سازوسامان کی فراہمی میں بھی معاونت کر رہا ہے۔

اخبار نے سعودی عرب اور یمن میں حوثیوں کے مخالف اتحاد کی انٹیلی جنس سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار حوثی جنگجوؤں کے ساتھ اگلے محاذوں پر بھی موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی جدید فوجی کارروائیوں اور حکمت عملی سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں ایران کی جانب سے تربیت اور تکنیکی معاونت حاصل رہی ہے۔

تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حوثی تنظیم اپنی آزادانہ حیثیت برقرار رکھنے اور فیصلے خود کرنے پر زور دیتی ہے۔ تنظیم اپنے بعض ہتھیار خود تیار کرتی ہے اور اس کی ترجیحات میں یمن کے اندرونی معاملات بھی شامل ہیں۔ اخبار کے مطابق حوثی موسمِ گرما تک امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ سے الگ رہے تھے۔

ایک دوسری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حوثی اپنے ڈرونز اور میزائلوں کے لیے بعض پرزے چین سے بھی حاصل کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں تہران کے ملوث ہونے کے الزامات مسترد کردیے ہیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران یمن میں ہونے والی کارروائیوں میں اپنے کردار سے متعلق الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر تنازع کے فریق درخواست کریں تو ایران یمن کے بحران کا پُرامن حل تلاش کرنے کے لیے ثالثی میں مدد دینے کو تیار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں