عدالتیں مستقبل کے ممکنہ قوانین کو روکنے کے لیے پیشگی فیصلہ نہیں کر سکتیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں ریمارکس دیے ہیں کہ عدالتیں مستقبل کے ممکنہ قوانین کو روکنے کے لیے پیشگی فیصلہ نہیں کر سکتیں ۔
عدالت عالیہ نے نیب کی حراست میں جسمانی ریمانڈ کی مدت 14 سے بڑھا کر 40 روز کرنے کے آرڈیننس کے خلاف آئینی درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دی۔

جسٹس انعام امین منہاس نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ نیب ترامیمی آرڈیننس کی قانونی مدت ختم ہونے کے بعد وہ خود ہی منسوخ ہوچکا ہے، اس لیے اس کے خلاف عدالت کے سامنے کوئی تنازع موجود نہیں رہا۔ عدالت کے مطابق آرڈیننس کی میعاد ختم ہونے کے بعد اس کی آئینی حیثیت پر رائے دینا غیر ضروری ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار اپنے خلاف آرڈیننس کے تحت کسی کارروائی یا سزا کو ثابت نہیں کرسکا۔ عدالتیں مستقبل میں بننے والے ممکنہ قوانین کو روکنے کے لیے پیشگی فیصلے نہیں کرسکتیں۔ اسی بنیاد پر نیب ترامیمی آرڈیننس 2024 کے خلاف دائر آئینی درخواست نمٹا دی گئی۔

یاد رہے کہ نیب ترامیمی آرڈیننس 2024 کے تحت جسمانی ریمانڈ کی مدت 14 روز سے بڑھا کر 40 روز کی گئی تھی۔ قائم مقام صدر مملکت نے یہ آرڈیننس 27 مئی 2024 کو جاری کیا تھا، تاہم اسے پارلیمنٹ سے توسیع نہیں ملی اور نہ ہی باقاعدہ ایکٹ بنایا گیا۔

اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ بھی نیب آرڈیننس کی میعاد ختم ہونے پر اسی نوعیت کی درخواست نمٹا چکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں