بلوچستان اسمبلی،اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری،مولانا ہدایت کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان سے سرداری نظام کے خاتمے کیلئے رکن صوبائی اسمبلی مولاناہدایت الرحمان بلوچ کی قرارداد ایوان میں پیش نہیں ہوسکی،،، اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے رولنگ دی کہ سرداری نظام کے خاتمہ کے حوالے سے پہلے سے1976 کا قانون موجود ہے،اس حوالے سے 3آئینی درخواستیں پرعدالت عالیہ کے فیصلے موجود ہیں قرار داد کے حوالے سے نقطہ اعتراض پر مولانا ہدایت الرحمن کے اظہار خیال کے دوران اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری اور مولانا ھدایت الرحمن کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ہاتھ پائی ہوتے ہوتے رہ گئی۔ اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی نے صوبائی اسمبلی کی کارروائی کے ایجنڈے میں شامل صوبے سے سرداری نظام کے خاتمے کی قرارداد نمٹا دی نقطہ اعتراض پر اظہارخیال کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمن کا کہنا تھا کہ میں سرداری نظام کے حوالے قرارداد درست کرکے دوبارہ لاوں گا، اس موقع پر قائد حزب اختلاف یونس عزیز زہری کا کہنا تھا کہ جب قرار داد نمٹا دی گئی ہے تو مولاناہدایت الرحمن اس پر بات نہیں کرسکتے ہیں قائد حزب اختلاف کے ریمارکس پرمولانا ہدایت الرحمن اور یونس زہری کے درمیان سخت جملوں کاتبادلہ ہوا،دیگر اراکین کی مداخلت کے باعث د ونوں کے درمیاں ہاتھ پائی ہوتے ہوتے رہ گئی۔اسپیکر بلوچستان اسمبلی کا کہنا تھا کہ میں نے قرارداد نمٹا دی تھی مولاناہدایت الرحمن موجودہ قانون پرعمل درآمد کی بات کررہے تھے اس پر بات کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے تاہم کورم کی نشاندہی پراسمبلی اجلا س 10 نومبر کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا اس سے قبل صوبائی اسمبلی نے ضلع ماشکیل میں سڑکوں کی تعمیر اور پشین میں بلوچستان یونیورسٹی کے سب کیمپس کو مکمل یونیورسٹی کادرجہ دینے کی قرارداد یں منظور کرلی تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں