کام کی جگہوں پر تحفظ کے قوانین پر عمل درآمد اصل چیلنج ہے، سعید غنی

کراچی: صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ حکومت سندھ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور کام کی جگہوں پر محفوظ ماحول یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے، تاہم صرف قانون سازی کافی نہیں بلکہ اصل چیلنج قوانین پر مؤثر عمل درآمد ہے، جس کے لیے لیبر انسپیکشن کا نظام مضبوط بنانے اور متعلقہ اداروں کی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔
کراچی کے مقامی ہوٹل میں پاکستان ایکارڈ کے سالانہ پروگرام ’’کام کی جگہوں پر تحفظ کا مشترکہ فروغ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ محفوظ اور صحت بخش حالاتِ کار مزدوروں کی عزتِ نفس، حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ حکومت سندھ کے پاس پیشہ ورانہ تحفظ اور صحت کے لیے جامع قانونی فریم ورک موجود ہے، جس میں سندھ آکیوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایکٹ 2017 بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں بلدیہ فیکٹری آتشزدگی اور بنگلا دیش میں رانا پلازا کے انہدام جیسے المناک واقعات نے کام کی جگہوں پر تحفظ کے مؤثر اقدامات اور جوابدہی کے نظام کی اہمیت واضح کی۔ ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے حکومت، کاروباری اداروں، عالمی برانڈز اور مزدوروں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ پاکستان ایکارڈ ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبے میں کام کی جگہوں پر صحت اور تحفظ کے معیار بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، تاہم اس کا دائرہ کار زیادہ تر برآمدی فیکٹریوں تک محدود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے کامیاب طریقہ کار کو دیگر شعبوں اور کام کی جگہوں تک بھی وسعت دی جائے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ عمارتوں، فائر سیفٹی، الیکٹریکل سیفٹی اور بوائلر سیفٹی کے حوالے سے پاکستان ایکارڈ کا کام، تربیتی پروگرامز اور شکایات کے ازالے کا نظام قابلِ قدر تجربات فراہم کرتا ہے۔ حکومت اور نجی شعبہ مل کر ان اقدامات کو مزید وسیع کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برانڈز کی جانب سے محفوظ فیکٹریوں سے مصنوعات حاصل کرنے کی شرط مقامی صنعت کاروں کو کام کی جگہوں پر تحفظ کے لیے سرمایہ کاری کی ترغیب دیتی ہے۔ حکومت سندھ ایسے اقدامات کی مکمل حمایت کرتی ہے اور مزید بین الاقوامی برانڈز، مقامی تاجروں اور صنعت سے وابستہ افراد کو اس عمل میں تعاون کی دعوت دیتی ہے۔

سعید غنی نے مزید کہا کہ مزدوروں کے حقوق کا احترام صرف تجارتی تعلقات یا مصنوعات کی خریداری کی شرائط تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ قانونی فرض اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ کام کی جگہوں کا تحفظ اور مزدوروں کے حقوق ذمہ دارانہ تجارت، پائیدار معاشی ترقی اور منصفانہ معاشرے کے بنیادی تقاضے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اور بالخصوص کراچی میں صنعتی سرگرمیوں، تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ حکومت سندھ محفوظ ماحولِ کار، مزدوروں کی فلاح و بہبود اور ذمہ دارانہ تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔

تقریب سے سیکرٹری محنت سندھ ساجد جمال ابڑو، سید ذوالفقار شاہ، سید نذیر علی، نجہیا رضا، ڈاکٹر سانگی، ڈاکٹر ذیشان، طارق معین اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں