ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے، گورنر خیبرپختونخوا

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہتھیار اٹھانے والے عناصر کو اسی کی زبان میں جواب دیا جائے گا، دہشت گردوں کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی نافذ ہے، ترقیاتی کام، سڑکیں اور پل تبھی مفید ہیں جب انسان اور عوام کی زندگی محفوظ ہو، عوام کا اعتماد بحال کر کے اور پولیس و عوام کا رابطہ مضبوط بنا کر آدھی جنگ جیتی جا سکتی ہے، صوبے کے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف کرنا ترجیح ہے، اس جنگ میں شکست یا واپسی کا کوئی آپشن نہیں۔

گورنر ہاؤس پشاور میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، درپیش چیلنجز اور مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے خصوصی بریفنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، صوبائی ایڈوائزرز، اعلیٰ سول و پولیس افسران اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔

ایڈوائزر ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز کفایت اللہ خان اور سیکرٹری ہوم امجد علی خان نے شرکاء کو صوبے میں سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال، پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو درپیش مسائل، دستیاب وسائل اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ کے بعد سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی جس میں گورنر فیصل کریم کنڈی، ایڈوائزر ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز کفایت اللہ خان، سیکرٹری ہوم امجد علی خان اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس عباس احسن نے شرکاء کے سوالات کے جوابات دیے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ حکومت کے دور میں ضم شدہ اضلاع کے لیے مجموعی سیکیورٹی بجٹ کا صرف 3.2 فیصد مختص کیا گیا، جبکہ خیبرپختونخوا پولیس کو 10,587 اور سی ٹی ڈی کو 638 اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے۔

پولیس کو 36 فیصد آپریشنل ٹرانسپورٹ کی کمی ہے جبکہ صرف 12 فیصد فورس کو اینٹی ڈرون سسٹم کی سہولت حاصل ہے۔ مزید بتایا گیا کہ پولیس میں ضم ہونے والے 15,186 خاصہ دار اہلکاروں کی اکثریت ناخواندہ ہے، جس سے تربیت اور استعداد کار بڑھانے کے حوالے سے اضافی چیلنجز درپیش ہیں۔

بریفنگ میں انسداد دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے فنڈز کے اجراء میں تاخیر کی بھی نشاندہی کی گئی اور بتایا گیا کہ منظور شدہ 6.4 ارب روپے میں سے صرف ایک ارب روپے جاری کیے جا سکے ہیں۔

شرکاء کو بتایا گیا کہ 2024 سے ستمبر 2026 تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج کے 1,003، پولیس کے 627 اہلکار اور 808 شہری شہید ہوئے، جبکہ صرف 2026 میں ستمبر تک 255 فوجی اہلکار، 302 پولیس اہلکار اور 304 شہری شہید ہوئے۔

نامساعد حالات اور بے شمار قربانیوں کے باوجود گزشتہ تین سال کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 3,788 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ مستقبل کے سیکیورٹی منصوبوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ مضبوط خیبرپختونخوا منصوبے کے تحت صوبے میں سیکیورٹی کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس میں پولیس کے لیے 59.8 ارب روپے اور سی ٹی ڈی کے لیے 10.3 ارب روپے رکھے جائیں گے، جبکہ گزشتہ 10 سال کے دوران سیکیورٹی کے شعبے میں مجموعی طور پر 98 ارب روپے خرچ کیے گئے۔

منصوبے کے تحت پولیس کی فورٹیفکیشن کی صلاحیت 75 فیصد، نگرانی کی استعداد 15 فیصد سے بڑھا کر 60 فیصد اور رات کے وقت آپریشن کرنے کی صلاحیت 18 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اسی طرح پولیس کی اینٹی ڈرون صلاحیت ایک فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد، سی ٹی ڈی کی گاڑیوں کی آرمر صلاحیت 16 فیصد سے 70 فیصد اور جیمرز کی دستیابی 3 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ سی ٹی ڈی کا دائرہ کار 34 اضلاع تک پھیلایا جائے گا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے کے 10 اضلاع میں ڈسٹرکٹ نروو سینٹرز اور سیف سٹیز اتھارٹی قائم کی جائے گی، جبکہ پولیس نفری کی کمی کا تناسب 15 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

دہشت گردی کے مقدمات میں مؤثر اور فوری انصاف کی فراہمی اور گواہوں کے تحفظ کے لیے انسداد دہشت گردی کی فیس لیس عدالتیں قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر جھوٹے اور من گھڑت بیانیے کا مؤثر توڑ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال اور صوبے کے بڑے شہروں کے 406 تھانوں میں اسمارٹ فرنٹ ڈیسک قائم کرنے کا منصوبہ بھی بریفنگ کا حصہ تھا۔ امن و امان کے قیام اور عوامی مسائل کے مقامی سطح پر حل کے لیے تمام اضلاع میں ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلز ، ٹرائبل لائزن کمیٹیاں، ماہانہ کھلی کچہریاں اور باقاعدہ جرگوں کے انعقاد کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

سیکیورٹی فورسز کا مورال بلند رکھنے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دینے والے اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے شہداء پیکج اور سیکیورٹی چیلنج الاؤنس میں خاطر خواہ اضافے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔

بریفنگ میں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید بہتر بنانے، پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو مستقبل کی حکمت عملی کے اہم نکات قرار دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں