ضلعی انتظامیہ کے رویئے کے خلاف صحبت پور بازار یونین کا احتجاج اور ہڑتال

صحبت پور (نامہ نگار) صحبت پور مشرقی بلوچستان کا ایک بدقسمت ضلع ہے جہاں پہ ایک طویل عرصے سے افسر شاہی مسلط ہے زندگی کے تمام شعبے افسروں کے رحم کرم پہ ہیں جسکا جو دل چاہے وہی کرتا ہے کیونکہ ان سے پوچھنے والا کوئی نیں شریف النفس اور شرافت کے علمبردار کھوسہ خاندان کے جانشین میر سلیم کھوسہ صوبائی حکومت کے ایک بااثر وزیر ہونے کے باوجود ضلع کے سرکاری کرم چاریوں کو کھلی آزادی دیتے ہیں کہ وہ مقامی لوگوں کے مسائل حل کریں مگر افسران کی کارکردگی صفر رہا ہے اور ان سے کوئی پوچھنے والا بھی نیں اب تین دن سے صحبت پور بازار یونین ہڑتال ہے ایک کثیر آبادی سبزیون و دیگر ضروریات سے محروم ہے مگر ضلعی ڈپٹی کمشنر کو یہ بھی نہیں پتا کہ شہر کی ہزاروں آبادی اس وقت بنیادی سہولت نہیں مل رہی بازار یونین کے صدر ذاکر جاموٹ اور نائب صدر عزیز گولہ کے مطابق مقامی اسسٹنٹ کمشنر نے ریڑی بانوں سبزی فروشوں پہ ناجائز کاروائیاں کررہا ہے اور اب اس مسلے کو تین دن ہوگٸے کوئی اس طرف توجہ نہیں دے رہا۔ صوباٸی وزیر میر سلیم خان کھوسہ ، کمشنر نصیرآباد کو فوری طور پہ اس مسٸلے کو حل کریں اور مزاکرات کٸے جاٸیں تاکہ غریب ریڑی بانوں کو سنا جاۓ اور بازار یونین کے جائز مطالبات حل کئے جائیں۔ سرکاری افسران کے موقف کو دیکھا جاۓ تاکہ ہزاروں لوگ اس پریشانی بچ سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں