بیجنگ(این این آئی) بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے بیجنگ میں منعقدہ پاک چائنا بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کے موقع پر متعدد چینی سرمایہ کار کمپنیوں کے نمائندوں سے اہم ملاقاتیں کیں۔ اس دوران انہوں نے سرمایہ کاروں کو بلوچستان میں دستیاب وسیع سرمایہ کاری کے مواقع، حکومتِ پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات و مراعات اور سرمایہ کاری بورڈ کی عملی کوششوں سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان سرمایہ کاروں کے لیے ایک نادر موقع فراہم کرتا ہے جہاں تجارتی و کاروباری ماحول تیزی سے سازگار ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک فیز II کے تحت گوادر پورٹ کی فعالی، پانچ نئے اقتصادی راہداریوں پر کام، قراقرم ہائی وے اور ریلوے لائن (ML-1) کی جدید کاری سمیت مختلف بڑے منصوبوں پر عملی تعاون دونوں ملکوں کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ بلال خان کاکڑ نے کانفرنس میں زراعت، الیکٹرک وہیکلز، شمسی توانائی، صحت، کیمیکلز و پیٹرو کیمیکلز، آئرن اور اسٹیل کے شعبوں میں باہمی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ سمیت 8 ارب 50 کروڑ ڈالر مالیت کے 21 مشترکہ منصوبوں اور مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کو ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں سے بلوچستان سمیت پورے خطے میں معاشی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی، لاکھوں منافع بخش روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ملکی جی ڈی پی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، سی پیک کے دوسرے مرحلے میں چین کے ساتھ بھرپور تعاون چاہتا ہے۔ چین کی ترقی ہمارے لیے رول ماڈل ہے، اور ہم چینی سرمایہ کاروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چینی صنعتوں کی پاکستان منتقلی سے نہ صرف سستی لیبر بلکہ جدید سہولیات اور کاروباری امکانات بھی میسر آئیں گیجو دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنائیں گے۔

