یادوں کی ایک شام

عزیز سنگھور
جمعہ کے روز کراچی پریس کلب کی شام کچھ مختلف تھی۔ عام دنوں میں یہاں صحافیوں کی بیٹھکیں، بحث و مباحثے اور خبروں کی دوڑ بھاگ دکھائی دیتی ہے مگر اس جمعے کو فضا میں ایک الگ سا رنگ گھلا ہوا تھا۔ دوستوں اور ساتھیوں نے آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر تنویر اے طاہر کے اعزاز میں ایک ہائی ٹی کا اہتمام کیا تھا۔ یہ تقریب رسمی کم اور یادوں کے دریچے کھولنے والی زیادہ تھی۔
پروفیسر توصیف احمد خان، سہیل سانگی، عارف بلوچ، عزیز سنگھور، علی اوسط، ڈاکٹر سعید عثمانی، غلام نبی چانڈیو، عبدالخالق زردان، فاروق اعظم، شاہدہ یاسمین بخاری، اکبر علی، عبدالحفیظ بلوچ اور سینئر صحافیوں اور ادیبوں نے اس شام کو یادگار بنایا۔ ہر شخص کے لبوں پر تنویر طاہر کی جدوجہد اور ان کے عہد کی باتیں تھیں۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وقت پلٹ کر ان دنوں میں جا رہا ہے جب اس سرزمین پر آمریت کے سائے چھائے ہوئے تھے اور آزادیِ فکر و اظہار جرم شمار ہوتا تھا۔

ڈاکٹر تنویر اے طاہر عملی سیاست کے میدان کے وہ کردار ہیں جنہوں نے جبر اور ظلم کے دور میں بھی ہمت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق کے ادوار میں جب پاکستان کمیونسٹ پارٹی پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں، تو طاہر صاحب اس پارٹی کے سیکریٹریٹ کے انچارج تھے۔ وہ دن اور رات زیرِ زمین رہ کر پارٹی کے نظریاتی پرچم کو بلند رکھتے رہے۔
اسی دوران “سرخ پرچم” نامی آرگن کی اشاعت بھی ان کے ہاتھوں جاری رہی۔ آج جب ہم آزادی سے اخبار یا رسائل شائع ہوتے دیکھتے ہیں تو شاید اندازہ نہیں کر پاتے کہ اس وقت ایک نظریاتی پرچہ چھاپنا کس قدر کٹھن اور خطرناک کام تھا۔ مگر طاہر اور ان جیسے سینکڑوں کارکن یہ خطرہ مول لیتے رہے تاکہ انقلابی پیغام زندہ رہے۔

ڈاکٹر تنویر کی زندگی کا ایک اہم باب ان کی شریکِ حیات، کامریڈ آصفہ رضوی تھیں۔ دونوں کی ملاقات انڈرگراؤنڈ سرگرمیوں کے دوران ہوئی اور یہ رفاقت ازدواجی رشتہ میں ڈھل گئی۔ مگر یہ محض ازدواجی کہانی نہیں تھی، بلکہ نظریاتی ہمسفری کی ایک مثال بھی ہے۔

آصفہ رضوی اپنی ذات میں ایک تحریک تھیں۔ انہوں نے بلوچستان کے گرین بیلٹ میں ہونے والے بلوچ کسانوں کے قتلِ عام کے خلاف “پٹ فیڈر تحریک” میں عملی کردار ادا کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب جاگیردارانہ نظام اپنے عروج پر تھا اور مگسی قبیلے کے نواب و سردار کسانوں پر ظلم روا رکھے ہوئے تھے۔ ایسے میں آصفہ نے سامراجی و جاگیردارانہ جبر کے خلاف آواز بلند کی اور ان سرداروں کو للکارا۔
اس للکار کی قیمت بھی انہیں چکانی پڑی۔ انہیں دیگر کمیونسٹ رہنماؤں کے ساتھ “مچھ جیل” کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔ مگر جیل کی دیواریں بھی ان کے نظریات کو توڑ نہ سکیں۔

جنرل ضیاء الحق کا دور پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ اس دور میں آزادیِ صحافت کو کچلا گیا، سیاسی کارکنوں کو کوڑوں، جیلوں اور پھانسی کے پھندوں سے ڈرایا گیا۔ ایسے میں کامریڈ آصفہ رضوی نے خاموش رہنے کے بجائے صحافیوں کی تحریک میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ دیگر صحافیوں کے ہمراہ کراچی میں گرفتار ہوئیں اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔
یہ وہ دور تھا جب عورت کا سیاست میں آنا بھی ایک معمہ سمجھا جاتا تھا۔ مگر آصفہ رضوی نے نہ صرف اس دیوار کو توڑا بلکہ ایک سچے کامریڈ کی طرح اپنی قربانیوں سے تاریخ میں نام درج کروایا۔ وہ اپنی زندگی کے آخری لمحے تک کمیونسٹ کاز کے ساتھ جڑی رہیں۔

کراچی پریس کلب کی وہ شام محض ایک ہائی ٹی نہیں تھی، بلکہ ماضی کی جدوجہد کو یاد کرنے اور اس سے توانائی لینے کا ایک موقع تھا۔ ہر دوست نے ڈاکٹر تنویر طاہر کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ساتھ ہی ان کی رفیقِ حیات آصفہ رضوی کی قربانیوں کو بھی یاد کیا۔
یہ شام ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ نظریے اور جدوجہد کبھی ضائع نہیں جاتے۔ وہ چاہے کاغذ پر چھپے سرخ پرچم کی صورت میں ہوں یا جیل کی کوٹھری میں گونجتے نعروں میں، یہ سب وقت کی دھول میں دفن نہیں ہوتے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتے ہیں۔

ہر انسان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ مگر کچھ موتیں ایسی ہوتی ہیں جو گمنامی میں گزر جاتی ہیں۔ مگر کامریڈ آصفہ رضوی کی موت ایسی نہ تھی۔ وہ آج جسمانی طور پر موجود نہیں مگر ان کا نام، ان کی جدوجہد اور ان کی قربانی تاریخ کے سنہرے باب میں امر ہے۔ وہ اس بات کی علامت ہیں کہ عورت ہو یا مرد، اگر سچائی اور انصاف کی خاطر لڑے تو تاریخ اسے بھلا نہیں سکتی۔

یہ ساری گفتگو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آج کے دور میں جب معاشرہ ٹوٹ پھوٹ اور بے حسی کا شکار ہے، کیا ہم نے اپنے ان ہیروز کو یاد رکھا ہے؟ کیا ہم نے اپنی نئی نسل کو بتایا ہے کہ آزادی اور حقوق کی راہ کس قدر خون، قربانی اور جدوجہد سے ہموار ہوئی؟ اگر ہم نے یہ سبق نہ دیا تو آنے والا کل ہم سے سوال کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں