بے تکی باتیں :صحافت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

اے آر طارق

آج علم و ادب اور صحافت کے میدان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض ایک فنی تبدیلی نہیں یہ ایک اخلاقی زوال ہے۔ ایک خاموش مگر گہرا زخم ہے جو لفظوں کے سینے میں اُتارا جا رہا ہے اور افسوس یہ ہے کہ خنجر چلانے والے ہاتھ خود کو اہلِ قلم کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے نظام خصوصاً چیٹ جی پی ٹی جیسے ٹولز کا اندھا دھند استعمال سہولت نہیں رہا بلکہ بددیانتی کی ایک منظم شکل بن چکا ہے۔ یہ نہ صرف ایڈیٹوریل ٹیموں /ایڈیٹرکے اعتماد سے کھلواڑ ہے بلکہ قاری کے ساتھ کھلی ناانصافی، فریب اور دھوکہ ہے۔
صحافت اعتماد پر زندہ رہتی ہے۔ قاری اخبار، کالم یا تجزیہ اِس یقین کے ساتھ پڑھتا ہے کہ سامنے جو الفاظ ہیں وہ کسی انسان کے تجربے، مشاہدے، درد، فکر اور شعور سے پھوٹے ہیں۔ جب ایک لکھنے والا محض موبائل سے چند کمانڈز دے کر ایک مشین سے تحریر حاصل کرتا ہے اور اُسے اپنی تخلیق بنا کر پیش کرتا ہے تو وہ دراصل قاری کی آنکھوں میں دُھول جھونکتا ہے۔ یہ عمل صرف کاہلی نہیں یہ علمی بددیانتی ہے۔ یہ اِس پیشے کی رُوح سے غداری ہے جس کا بنیادی اُصول دیانت، صداقت اور ذمہ داری ہے۔
مصنوعی ذہانت سے حاصل کی گئی تحریر بظاہر خوبصورت ہو سکتی ہے۔ الفاظ ترتیب میں ہوتے ہیں۔جملے متوازن ہوتے ہیں۔محاورے درست بیٹھتے ہیں لیکن اِس ساری چمک دمک کے پیچھے ایک گہرے خالی پن کی کیفیت ہوتی ہے۔ وہ تحریر درد سے خالی ہوتی ہے۔ اُس میں وہ لرزش نہیں ہوتی جو کسی ماں کے آنسوؤں سے جنم لیتی ہے۔ وہ آگ نہیں ہوتی جو کسی مزدور کے پسینے سے اُٹھتی ہے۔وہ کرب نہیں ہوتا جو کسی مظلوم کی آہ سے لفظوں میں ڈھلتا ہے۔ مشین لفظ دے سکتی ہے احساس نہیں۔ مشین بیان کر سکتی ہے بھگت نہیں سکتی۔ مشین خوبصورتی سجا سکتی ہے مگر زخم محسوس نہیں کر سکتی۔
اصل تحریر وہ ہوتی ہے جو لکھنے والے کے اندر سے نکلتی ہے۔ جو اُس کی نیندیں حرام کر دیتی ہے۔ جو اُس کے ہاتھ کانپتے ہوئے لکھوائے۔ جو اُسے خود اپنے لفظوں سے ڈرا ئے۔ صحافت میں لکھی گئی سطر صرف اطلاع نہیں دیتی وہ گواہی دیتی ہے۔ وہ وقت کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر سچ بولتی ہے۔ جب یہ کام مشین کے حوالے کر دیا جائے تو تحریر ایک لاش بن جاتی ہے جس پر لفظوں کا میک اپ کر کے اُسے زندہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ اِس مصنوعی پن کو نہ صرف قبول کیا جا رہا ہے بلکہ تالیاں بھی بجائی جا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر دھڑا دھڑ ایسی تحریریں شائع ہو رہی ہیں جنہیں پڑھتے ہی احساس ہو جاتا ہے کہ یہ کسی انسان کی تخلیق نہیں۔ ایک خاص قسم کی بے رُوح روانی ایک مانوس سی ساخت، جذباتی اُتار چڑھاؤ کا فقدان اور ہر جگہ ایک جیسی زبان۔یہ سب نشانیاں ہیں کہ قلم اب ہاتھ میں نہیں، مشین کے سپرد ہو چکا ہے۔ اِس کے باوجود لکھنے والے فخر سے اپنا نام چسپاں کرتے ہیں گویا اُنہوں نے کسی فکری معرکے کو سر کر لیا ہو۔
یہ روش علم و ادب میں بھی خطرناک ہے مگر صحافت میں یہ زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ صحافت محض الفاظ کا کھیل نہیں یہ عوامی امانت ہے۔ یہاں ہر سطر ایک ذمہ داری ہے۔ ہر تجزیہ ایک اثر رکھتا ہے اور ہر رائے کسی نہ کسی ذہن کو تشکیل دیتی ہے۔ جب یہ سب کچھ مصنوعی ذہانت کے حوالے کر دیا جائے تو دراصل رائے عامہ کو بھی ایک مشین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ سوال محض لکھنے والے کی مہارت کا نہیں یہ سماج کی فکری سمت کا سوال ہے۔
ایڈیٹوریل ٹیمیں بھی اِس جرم سے بری الذمہ نہیں۔ اگر وہ محض زبان کی صفائی اور جملوں کی چمک دیکھ کر تحریر شائع کر دیتی ہیں اور اِس بات کی پروا نہیں کرتیں کہ اِس کے پیچھے انسانی فکر موجود ہے یا نہیں تو وہ بھی اِس فریب میں شریک ہیں۔ قاری کو یہ حق حاصل ہے کہ اُسے بتایا جائے کہ وہ جو پڑھ رہا ہے وہ انسانی شعور کی پیداوار ہے یا کسی الگورتھم کی ترتیب۔ اِس حق کو سلب کرنا صحافت کے بنیادی اخلاقی اُصولوں کی نفی ہے۔
جو لوگ چیٹ جی پی ٹی یا دیگر مصنوعی ذہانت کے نظاموں سے تحریریں لے کر خود کو لکھاری ثابت کر رہے ہیں وہ دراصل ایک مردہ لاش پر جشنِ فتح منا رہے ہیں۔ اُنہیں لگتا ہے کہ اُنہوں نے الفاظ کی جنگ جیت لی ہے حالانکہ وہ فکر کی جنگ ہار چکے ہوتے ہیں۔ اُن کی تحریر میں نہ ذاتی تجربہ ہوتا ہے نہ مشاہدے کی تپش نہ سچائی کا بوجھ۔ وہ وقتی داد تو سمیٹ لیتے ہیں مگر تاریخ کے سامنے اُن کے لفظ کھوکھلے ثابت ہوتے ہیں۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت موجود ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اِس کا استعمال کہاں اور کیسے ہونا چاہیے۔ تحقیق، حوالہ جاتی معاونت، زبان کی درستی یا معلوماتی خاکے تک اِس کا استعمال ایک حد تک قابلِ فہم ہو سکتا ہے مگر مکمل تحریر کو مشین کے سپرد کر دینا اور پھر اُسے اپنی فکری کاوش بنا کر پیش کرنا صریحا دھوکہ ہے۔ یہ ویسا ہی ہے جیسے کوئی دوسروں کے زخم دکھا کر اپنی بہادری کے قصے سنائے۔
اصل لکھاری وہ ہوتا ہے جو لفظوں کی قیمت ادا کرتا ہے۔ جو اپنے اندر کے سوالوں، تضادات اور کمزوریوں کو تحریر میں ڈھالتا ہے۔ جو جانتا ہے کہ ہر سطر اُس کے ضمیر کا عکس ہے۔ مصنوعی ذہانت کے سہارے لکھنے والا اِس قیمت سے بچ جاتا ہے اور یہی اِس کی سب سے بڑی بددیانتی ہے۔ وہ نہ خود نکھرتا ہے نہ قاری کو کچھ دیتا ہے۔ وہ صرف ایک فریب بیچتا ہے خوبصورت پیکنگ میں لپٹا ہوا فریب۔اگر یہ روش یونہی چلتی رہی تو علم و ادب کا میدان لفظوں سے تو بھر جائے گامگر معنی سے خالی ہو جائے گا۔ کتابیں ہوں گی، کالم ہوں گے، تجزئیے ہوں گے مگر اِن میں انسان نہیں ہوگا اور جس تحریر میں انسان نہ ہو، وہ چاہے کتنی ہی درست کیوں نہ ہو، وہ دل تک نہیں پہنچتی۔ صحافت کا مقصد دل و دماغ دونوں کو جھنجھوڑنا ہے اور یہ کام کوئی مشین نہیں کر سکتی۔
وقت آ گیا ہے کہ لکھنے والے خود اپنے سامنے آئینہ رکھیں۔ وہ آئینہ جس میں اُنہیں اپنی بددیانتی کے داغ صاف نظر آئیں۔ وہ دیکھیں کہ وہ قاری کو کیا بیچ رہے ہیں اور خود کیا بن چکے ہیں۔ اگر اِنہوں نے قلم کو محض ایک بٹن سمجھ لیا ہے تو یاد رکھیں تاریخ ایسے لکھاریوں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔ لفظ زندہ رہتے ہیں مگر فریب کرنے والے نام مٹ جاتے ہیں۔
صحافت کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اِس مصنوعی یلغار کے خلاف فکری مزاحمت کریں۔ لکھنے کا عمل مشکل بنائیں۔ خود کو جواب دہ سمجھیں اور قاری کے اعتماد کو مقدس امانت جانیں۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب اخبار اور کالم تو ہوں گے مگر اُن میں انسان کی سانس نہیں ہوگی اور ایسی صحافت ایک زندہ معاشرے کے لیے سب سے بڑا المیہ ہوتی ہے۔

artariq2018@gmail.com
03024080369

اپنا تبصرہ بھیجیں