میلان (این این آئی)یوکرینی کھلاڑی ولاسلاو ہیراسکیویچ کو میلان کورٹینا اولمپکس میں سکیلیٹن ریسنگ کے مقابلوں سے اس وقت باہر کر دیا گیا جب انہوں نے اپنے ملک کی روس کے ساتھ جاری جنگ کے متاثرین کی تصاویر والے ہیلمٹ پہننے سے دست بردار ہونے سے انکار کر دیا۔یوکرینی اولمپک کمیٹی کے ترجمان نے ان کے اخراج کی تصدیق کی ہے جبکہ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی)نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہیراسکیویچ کو کھلاڑیوں کے اظہارِ رائے سے متعلق آئی او سی کی ہدایات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے مقابلوں میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔آئی او سی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ کھلاڑی کے ساتھ براہِ راست مذاکرات اور متعدد بات چیت کے باوجود، جن میں کمیٹی کی سربراہ کرسٹی کوونٹری کے ساتھ آخری ملاقات بھی شامل ہے، کھلاڑی کسی قسم کی رعایت دینے پر تیار نہیں ہوا۔دوسری جانب، ہیراسکیویچ نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ہیلمٹ کی تصویر کے ساتھ لکھا کہ یہ ہماری عزتِ نفس کی قیمت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ آئی او سی کے ساتھ کوئی تنازع نہیں چاہتے تھے، بلکہ کمیٹی نے قواعد کی امتیازی تشریح کر کے اسے خود پیدا کیا ہے۔انہوں نے اس پابندی کو ختم کرنے اور گذشتہ دنوں ان پر ڈالے گئے دبا پر معذرت کا مطالبہ بھی کیا۔یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی نے بھی کھلاڑی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس ہیلمٹ پر ان یوکرینی کھلاڑیوں کی تصاویر ہیں جو روس کے ہاتھوں مارے گئے، جن میں دمیتری شاربار اور 19 سالہ بیاتھلون کھلاڑی ایفہین مالیشیف شامل ہیں۔ہیراسکیویچ جو افتتاحی تقریب میں یوکرین کے علمبردار تھے، تمغے کی بڑی امیدوں میں سے ایک تھے کیونکہ وہ حالیہ عالمی چیمپئن شپ میں چوتھے نمبر پر رہے تھے۔ واضح رہے کہ روس پر اولمپک مقابلوں میں شرکت کی پابندی ہے اور اس کے چند کھلاڑی صرف غیر جانب دار حیثیت میں شریک ہیں۔

