کوئٹہ (این این آئی)جمعیت علمائاسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینیئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، حاجی بشیراحمد کاکڑ، مولانا محب اللہ، مولانا محمد ایوب، شیخ مولانا عبدالاحد، مولانا سعید احمد، حافظ سراج الدین، مولانا محمد شعیب جدون، مفتی روزی خان بادیزئی، اور دیگر نے کہا ہے کہ کوئٹہ شہر میں آئے روز سیکیورٹی کے نام پر اہم شاہراہوں اور مرکزی سڑکوں کو پبلک ٹریفک کے لیے بند کرنا معمول بنتا جا رہا ہے جس کے باعث شہریوں کو شدید اذیت، ذہنی کوفت اور ناقابلِ بیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پورا شہر گھنٹوں جام رہتا ہے مریض، طلبہ، بزرگ اور ملازمت پیشہ افراد سڑکوں پر خوار ہوتے ہیں مگر حکومتِ وقت کو عوام کی تکالیف سے کوئی سروکار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے نام پر عوام کو ذلیل و خوار کرنا موجودہ حکومت کا وطیرہ بن چکا ہے جو نہ صرف افسوسناک بلکہ قابلِ مذمت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے بنیادی حقوق کو مسلسل پامال کیا جا رہا ہے جبکہ ذمہ دار ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں آئے روز موبائل انٹرنیٹ ڈیٹا سروس کی بندش نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں، تعلیمی معاملات اور ہنگامی روابط بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی چیکنگ کے نام پر شہریوں کو گھنٹوں سڑکوں پر روکنا اور بلاجواز ہراساں کرنا معمول بن چکا ہے جس سے عوام میں شدید اضطراب اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔ عوام شدید ذہنی دباؤ اور ناقابلِ برداشت پریشانی میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے سیکیورٹی انتظامات کو بہتر اور مؤثر بنائے، مگر عوام کو سزا دینے کا یہ سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے تاکہ شہری سکھ کا سانس لے سکیں اور معمولاتِ زندگی بحال ہو سکیں۔

