پہاڑوں کا بیٹا

اعجاز منگی

یوسف مستی خان کو پہلی بار
میں نے بابائے بلوچستان
غوث بخش بزنجو کے ساتھ دیکھا تھا
یوسف مستی خان کو میں نے آخری بار
ان کے گھر میں دیکھا
ان کے کراچی والے گھر کی دیوار
جدوجد کا عظیم البم تھی۔
سیاہ بالوں سے لیکر سفید بالوں تک
یوسف مستی خان کا سفر سرخ تھا۔
میں اس سرخی کی بات نہیں کر رہا
جو سرخی اس کے خوبصورت چہرے پر تھی
میں اس سرخی کی بات کر رہا ہوں
جو سرخی اس کی نظر اور فکر میں تھی۔
بلوچستان کے پہاڑ بہت بلند ہیں
وہ اپنی دھرتی کے پہاڑوں جیسا تھا
وہ ‘‘پہاڑوں کا بیٹا’’ تھا۔
بلوچوں کا حسن بیان کرتے ہوئے
ذوالفقار علی بھٹو نے لکھا تھا
‘‘بلوچ ایک بہادر باپ
اور ایک فخرمند ماں بیٹا ہوتا ہے
اور ان کا ملاپ اس کے خوبصورت چہرے سے
جھلکتا رہتا ہے’’
میں کبھی خیر بخش مری سے نہیں ملا
میری عطاء اللہ مینگل سے ملاقات نہ ہوئی
میں نے کبھی اکبر بگٹی سے بات نہیں کی
مگر میں یوسف مستی خان سے ملا
اور مجھے شہید بھٹو کے الفاظ اس کے روپ میں نظر آئے۔
یوسف مستی خان صرف بہادر نہیں تھا۔
بہادری بلوچوں میں عام بات ہے۔
یوسف مستی خان ایک عالم بھی تھا
یوسف مستی خان ایک عاشق بھی تھا
یوسف مستی خان ایک مذدور بھی تھا
اس کا علم؛ اس کا عشق اور اس کی محنت
عظیم عوامی انقلاب کی امانت تھی
اور تاریخ گواہ ہے؛ گواہ ہے تاریخ
کہ اس نے اس امانت میں کبھی خیانت نہیں کی
مستی خان مظلوم عوام اور مظلوم اقوام کی جدوجہد کا
سرکش سپاہی اور مدبر کمانڈر تھا
اور وہ سرخ منزل کا مسافر تھا
اس سفر میں اگر وہ تھوڑا بھی ڈگمگاتا تو
بلوچستان کا گورنر یا چیف منسٹر بن جاتا
مگر وہ ثابت قدم رہا۔
دوستو! وہ بالکل ویسا تھا
جیسا فیض نے لکھا ہے
‘‘کر کج جبیں پہ سر کفن ؛ میرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرور عشق کا بانکپن؛ پس مرگ ہم نے بھلا دیا’’
وہ اپنے آخری سفر میں بھی
اپنے کامریڈوں کے کندھوں پر
جانب منزل تھا
اور رہے گا
یوسف مستی خان جیسے انسان
ہر دن اور ہر دور کے مقدر میں نہیں ہوتے
ایسے انسان جنم نہیں لیتے
ایسے انسان نازل ہوتے ہیں
وہ بلوچستان کے پہاڑوں پر
آذان انقلاب کی طرح نازل ہوا
یوسف مستی خان محب وطن کمیونسٹ تھے
وہ قومی اور طبقاتی جدوجہد کا سنگم تھے۔
اور اب وہ سرخ سیاست کے سنگ میل ہیں
یوسف مستی خان ایک راستہ بھی تھے
یوسف مستی خان ایک منزل بھی تھے
یوسف مستی خان ایک مسافر بھی تھے
سرخ سلام
سرخ سلام

اپنا تبصرہ بھیجیں